تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 402 of 736

تحدیث نعمت — Page 402

۴۰۲ سے کانگریس پارٹی کی سیاسی ساکھ بڑھانے میں کیا ہرج ہے قائد اعظم، مٹر بنان کی آزاد پارٹی کا موقف تھا کہ کانگریس ہمارے مخالف ہے اور حکومت ماری موید نہیں الزام نہ کانگریس کاساتھ دیں گے نہ حکومت کا اور غیر جانبدار رہیں گے۔انہیں بھی اطمینان تھاکہ اسمبلی کافیصلہ کچھ بھی جو معاہدے کا نفاذ تو ہوکر رہے گا الندان کے غیر جانب رہنے سے اگر اسی میں معاہدہ رد بھی ہو جائے تو ل کے اس کے فوائد سے محرم ہو جانے کا کوئی اندیشہ نہیں۔ایسی مجالس میں جہاں حکومت کے خلاف فیصلہ ہونے سے حکومت کو متعین نہ ہونا پڑتا ہ کئی دفعہ f ایسی صورت پیدا ہو جاتی ہے۔اسمبلی میں جب قائد اعظم مسٹر جناح نے معاہدے کے متعلق تقریر کی تو جہاں انہوں نے معاہدے کی بعض شقوں پر تنقید کی وہاں ان روایتی انار کا ظاہر کرتے ہوئے تسلیم کیاکہ یہ معاہدہ پہلے معاہدے (معاہدہ آٹو را، سے بہت بہتر ہے اورمیری نسب از راه زیر نوازی فرمایا اگر چه ظفراله کی تعریف میں میرا کچھ کہنا ای ہی ہے جب ایک باپ کا اپنے بیٹے کی ستائیش کر نا لیکن اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ اس نے معاہدے کے متعلق اپنے فرض کو احسن طریقہ سے سرانجام دیا ہے اور اس کے لئے اسے مبارکیا و پیش کرتے ہوئے جو کچھ مختلف اطراف سے کہا گیا ہے میں اسکی پوری طرح تائید کر تا ہوں۔اسمبلی میں رائے شماری ہوتے پر معاہدہ منتظر نہ ہو لیکن سب کی توقع کے مطابق حکومت نے معاہدے کا نفاذ کردیا۔اس کے کچھ عرصہ بعد میں دورسے پر بمبئی گیا تو ر پر شوم و اس ٹھاکر داس نے تاج ہوٹل میںمجھے پینے کی دعوت دی۔اس موقع پر کمیٹی کے سرکردہ تاجران اور کار خانہ داران بھی مدعو تھے اپنی استقبالی تقریر میں تجارتی معاہدے کے مشاورتی وفدمیں اپنی شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا وفد میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کرنے سے قبل میں اور میرے رفیق کار ظفر اللہ سے ملنے گئے تھے۔اس ملاقات میں اس نے مشاورتی وفد سے معاونی طریق کار کی جو ضاعت کی وہ ہر سیلو سے سو فیصدی اس نے پوری کی۔یہ مصر میرای تاثیر نہیں ملک سب رفتا“ کارہ کا یہی تا شہر ہے۔ولتا تھگو کی وزارت کے شاہ میں میرے انگلستان سے واپس آنے پر لارڈ نیل ھنگو نے وزارت کے قلمدانوں کی نئی تقسیم قلمدانوں کی نئی تقسیم کا فیصلہ کیا۔مجھے تجارت، صنعت ، پلک در کس اور غیر کے محکمہ جات کا قلمدان سپرد ہوا۔میرے نئے ملکوں کے سیکریٹری سراینڈریو کو تھے اور جائنٹ سیکر ٹری مر فالح اکبر حیدری تھے۔سر اینڈریو کلو کے وزیر ہونے پر مسٹر حیدری سیکریڑی ہوئے۔مسٹر حیدری نے میرے ایما پر پبلک ورکس کے محکمے میں ایک منصوبہ تیار کروایا جس کے تکمیل پانے کی مجھے بڑی خواہش تھی۔لیکن تشاء میں میرا قلمدان پھر تبدیل ہو گیا اور وہ منصو بہ وہیں کاوہیں رہ گی کیونکہ اسلام میں جنگ شروع ہوگئی اور ایسے امور کی طرف سے توجہ بھی ہٹ گئی اور ان کے لئے روپیہ بھی میسر نہ رہا۔وہ منصوبہ مختصر یہ تھا کہ ریلوے کے