تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 401 of 736

تحدیث نعمت — Page 401

اہم پہ پڑے تو میری تمام محبت اور تمام حسرت اور تمام شوق اس ایک ہی لفظ میں ادا ہو جائیں گے۔گہے ہے۔اور ان کی طرف سے بھیو تر " پھر ایک بار میرے دل کو خوشی سے بھر دے گا۔اسے نکلا به تربیت او بارش رحمت بیار داخلش کن اه کمالِ فضل در بیت النعيم ا ۱۹۳۹ انگلستان کے ساتھ نیا تجارتی انگلستان کے ساتھ نیا تجارتی معاہدہ اسمبلی کے 12 معاہدہ اسمبلی میں کے اجلاس میں پیش کیا گیا۔کانگریس تو حزب مخالف تھی۔انہوں نے تو معاہدے کی مخالفت کرناہی تھی سر روی مودی نے مجھے بتا یا کہ انا عظیم مر حیات نے ان سے معاہدے کے متعلق ان کی رائے دریافت کی تھی اور انہوں نے ان سے دہی کہا جو وہ لندن میں مجھ سے کہ چکے تھے۔(قائد اعظم ، مٹر تبان نے ان سے دریافت کیا تم کسی طرف رائے دو گے میٹر مودی نے کہامیں مل اونرز ایسوی ایشن کا صدر ہوں ور میری ایسوسی ایشن چاہتی ہے کہ میں املی میں معاہدے کے خلاف رائے دوں کیونکہ انکی رائے میں اس معاہدے کا زیادہ فائدہ تو ملک کے زمینداروں کو ے بہن کی کپاس زیادہ مقدار میں اور اچھی قیمت پر خریدی جائے گی جس کے نتیجے میں مل کے اندر بھی کپاس کی قمیت بڑھ جائے گی اور میاں کے کارخانوں کا نا ہوا کپڑا مہنگا ہو جائے گا۔ادھر لنکاشائر کے بنے ہوئے کپڑے پہد عائی شرح سے محصول عاید مونے کے نتیجے میں ان کے کپڑے کی قیمت کم ہو جائے گی اس طرح بند دوستانی مل اونہ نہ کو لنکاشائر والوں سے دونوں محاذ پر مقابلہ کرنا ہو گا اور زمینداروں کو جو فائدہ پہنچےگا اس کی قیمت انہیں ادا کرنی ہو گی میری ذاتی رائے یہ ہے کہ معاہدے کے اندر اس قسم کا توازن مدنظر رکھا گیا ہے کہ ہم اس قسم کے کپڑے میں مرد ہمارے کار خالی میں بنایا جاتا ہے پھر بھی نکا شائر کا مقابلہ کر سکیں گے۔اس لئے باوجود کا نہ خانہ داروں کی خواہش کے میں معاہد کے خلاف رائے روں میں غیر جانبدار رہوں گا اور کسی طرف رائے نہیں دوں گا۔مسٹر مودی نے مجھ سے کہا کہ میں نے یہ گفتگو نہیں سلئے تبادی ہے کہ نہیں میرا موقف معلوم ہو جائے اور یہ بھی معلوم ہوجائے کہ مں نے قائد اعظم، ہو ہمیں مسٹر جناح سے کیا کہا ہے۔(قائد اعظم مٹر بیان آزاد پارٹی کے لیڈر تھے اور اسمبلی کا فیصلہ اس پارٹی کی رائے پر مصر تھا۔اگر یہ پارٹی معاہدے کے حق میں رائے دیتی تو کانگریس پارٹی کی مخالفت ہے الم ہو جاتی۔اور اگر وہ غیر جانبدار کانگریس دراصل مرمتی تو کا نگر میں پارٹی کی مخالفت کامیاب ہو جاتی۔در اصل کانگریس پارٹی بھی سمجھتی تھی کہ یہ معاہدہ ملک کیلئے فائدہ مند ہے۔لیکن انہیں یقین تھا کہ املی معاہدے کی تائید کرے یا نہ کرے حکومت ہر صورت میں معاہدے کا نقاذ کرے گی اور ملک کو تو فائدہ معاہدے سے حاصل ہوتا ہے وہ ہو جائے گا۔لہذا اسمبلی میں معاہدے کی مخالفت