تحدیث نعمت — Page 395
۳۹۵ جب ہم قادیان پہنچے تو والدہ صاحبہ نے اپنا یہ دریا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں بھی بیان کیا۔حضورت نے فرمایا یہ جنت کے مکان کی طرف اشارہ ہے۔اس موقع پر ہم آخر پر پل تک قادیان ٹھہرے۔والدہ صاحبہ کے خواب کی وجہ سے ہی میں نے یہ انتظام کیا تھا کہ ہم اپریل کا آخری نصف قادیان میں گزار ہیں۔اس عرصہ میں والدہ صاحبہ با د وتشوف پیری کے اور خون کے دباؤ کی شکایت کے تو پھر عود کر آئی تھی بدل جمعہ کی نماز کے لئے مسجد اقصی جاتی ہیں۔اور حضرت ام المومنین اور حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں حاضر ہوتی رہیں جمعہ کی نماز کے وقت چونکہ اچھی خاصی گرمی ہو جاتی تھی۔سلئے جب مجھے معلوم ہوا کہ آ مد کی خانہ کیلئے مسجد اقصی گئی تھیں تومیں نے عرض کی اگر آپ مجھے اطلاع دیتی توی سواری کا انتظام کرتا۔فرمایا نہیں بیٹا محمد تک جانے میں کیا تکلیف ہے۔جب والدہ صاحبہ کو معلوم ہوا کہحضرت خلیفہ امی نے اور اپرای سند کی طرف روانی کا ارادہ فرمایا ہے تو کچھ افسردہ کی ہوگئیں۔دو روز کے بعد جب معلوم ہوا کہ حضور ۲ را اپریل کو قادیان سے روانہ ہوں گے تو خوشی خوشی مجھے تایا کہ تم نے سنا حضرت صاحب ۲۷ کو روانہ ہوں گے؟ میں نے کہا ہاں میں نے بھی سنا ہے۔پھر دوبارہ مجھ سے کہا روانگی ی و تاریخ ہے میں نے کہامیں سمجھتاہوں پر ان کی یہ تھی کہ اریل کے مہینے کا آخری بد دوار اور کوہے اور اگر اس سال ان کا خواب ظاہری رنگ میں پورا ہوا ہے تو حضرت صاحب ان کا جنازہ پڑھا کر قادیان سے روانہ ہوں گے۔۲۷ کی صبح کودہ خری بار مر ہی گیں۔اس دن مجھ سے شکایت کی کہ محسوس کرتی جو کہ مرے جس کے اندر حرارت ہے لیکن بظاہر کوئی تکلیف انہیں نہیں تھی۔نی ایام میں والدہ صاحب نے بتایاکہ کی بار انہوں نے غنودگی کی حالت میں سناہے کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ کچھ ہو نیوالا ہے اور دوسرا شخص جواب میں کہتا ہے اب کی بار تو ہو کر ر ہے گا۔۳۰ را پر پل کو جبدن قادیان سے ہماری روانگی تھی والدہ صاحبہ نے زیادہ تکلیف کا اظہار کیا۔ڈاکٹر صاحب کو بلوانے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ کسی وجہ سے تشریف نہ لا سکے۔میں نے عرض کی اس لیے ان کو ڈاکٹر الیں گے۔انہوں نے کرا کر فرمایا اچھا شام کی گاڑی سے ہم قادیان سے روانہ ہو گئے۔صبح انہوں نے اپنا ایک درد یا سنایا کہ تمہارے والد صاحب آئے ہیں اور کہتے ہیں آپ تو بہت بہیمانہ ہیں اچھامیں جا کہ ڈاکٹر کولاتا ہوں اپ ڈاکٹر جس کی ہر بادہ کی نہیں بنیں رویے ہوگی۔۔شملہ پہنچ کر ڈاکٹر صاحب کو ملایا۔انہوں نے کیا تکلیف تو خون کے دباؤ کی ہے۔لیکن صحیح علاج اس قیمت تک نہیں ہو سکتا جب تک بیماری کے پہلے مراحل کی تفصیل معلوم نہ ہو۔خون وغیرہ کا معائنہ کرنے سے معلوم ہوا کہ گردے بھی ٹھیک کام نہیں کر رہے بہر حال کو علاج تجو یہ ہوا وہ شروع کر دیا گیا ہے۔لیکن کمزوری آہستہ آہستہ بڑھتی گئی۔""