تحدیث نعمت — Page 383
سمسم ہدایت دی تھی کہ میرے چارج لینے تک تو اہم معاملات سر جوزف بھور کے محکموں میں زیر غور آئیں ان کے ضروری کا غذات سرسوزن کاغذ میری اطلاع کے لئے مجھے بھیجے جائیں۔میری لندن سے واپسی پر سر جوزف بھور نے بھی مجھے یقین دلایا تھا کہ ایس کیا جائے گا لیکن آپ کو یہ سنکر حیرت ہوئی کہ چھ ماہ کے عرصہ میں انہوں نے مجھے ایک سطرنک نہ بھیجی جب انکی بے اعتمادی کا یہ عالم ہے تو مجھے ان سے تعاون کی کیا امید ہوسکتی ہے ؟ سر جیمز گرگ۔مجھے ظفر اللہ کے ساتھ اتفاقی ہے ہم دونوں کو بھور پر اعتماد نہیں۔سرگیہ جاشنکہ یا جھائی۔جناب عالی میں عارضی طور پر کام کر رہا ہوں۔مجھے معلوم نہیں سر جگدیش پر شاد کی اس معاملے میں کیا رائے ہے۔اسلئے میں اس معاملے کے متعلق کوئی رائے نہیں دینا چاہتا۔وائسرائے۔کونسل میں سے تین آرا ء سرعبد القادر کے حق میں ہیں۔اور دوسر یوزن بھور کے حق میں ہیں میں سید اطلاع وز یہ سند کو بھیج دوں گا۔سرفر نیک نوئیں۔یہ کیسے ؟ آپ کی رائے بھی تو سر جوزف بھور کے حق میں ہے۔دونوں طرف آراء کہا یہ ہو گئیں۔اس صورت میں آپکو کاسٹنگ ووٹ کا اختیار ہے۔ا با وائسرائے۔اس وقت میری رائے غیر معلق ہے۔وزیر مداراکین کونسل کی اے معلوم کرنا چاہتے ہیں۔لارڈ ریلند و زیر سند کا سر سوزن بھور کو دی واپس پہنچنےکے بعد والے نے مجھے اب فرمایا اور بائی کاشر لندن میں ہائی کمشنر بنانے پر ناکام احرار کے قر یک میلیونی دنیا اور کھایا۔وزیر نے لکھا تھا عبدالقادر کو بڑی قدر کی نگا سے دیکھتا ہوں میں تھے ہی میں کی انتظامی امور کا زیادہ تر یہ ہی کہتے اسلئے میری رائے میں ان کا تقر موزوں نہیں ہو گا مجھے علم ہے کہ نواب بختیاری، ڈاک اشاعت احمدخان ، اسکندر حیات خاں، نواب لیاقت حیات خاں مار مالی و غیر کی بھی خواہش ہوگی کہ انہیں زیر غور لایا جائے لیکن یں ان سب کو جانتا ہوں اور میری رائے میں ان میں سے کوئی بھی موزوں نہیں۔آپ کوشش کریں کہ گرگ اور ظفراللہ ھور کے تقریر پر رضامند ہو جائیں۔دائرے نے دریافت کیا تمہاری کیا رائے ہے ؟میں نے کہا میں تو سر وزن بھور کے تقریر پر رضامند نہیں۔سر میز گرگ سے مشورہ کر کے مزید گذارش کروں گا۔وائسرائے سے رخصت ہو کہ میں سر میز گرگ کے پاس گیا اور انہیں وزیر ہند کے تارکے متعلق بتلایا۔انہوں نے کہامیں بھی بھور کے تقر پر پرند ماند نہیں سکتا لیکن ان کا تجویز کی جائے ؟ میں نے کہامیرا اندازہ ہے کہ موجودہ درزیر ہند لارڈز ٹیلینٹ کسی مسلمان کا تقر نہیں چاہتے اسلئے جتنے مسمانوں کے نام انہیں یا ر تھے۔انہوں کو یک قلم ناموزوں قرار دیدیا ہے حالانکہ ان میں بعض ایسے بھی ہیں جن کو اگر یہ عہدہ ملیش بھی کیا جائے تو وہ اسے قبول کرنے کے لئے رضامند نہ ہوں۔اب یہی ہو سکتا ہے کہ ہم والرائے کو کسی ایسے شخص کا نام پیش کریں جس کا ریکارڈ میلہ یونین سے وزیر من ذاتی طور پر نہ جانتے ہوں ورنہ وہ کہ دیں گے