تحدیث نعمت — Page 367
مئی ۱۹۳۵ء میں میں نے قلمدان وزارت کا چارج لیا۔جس میں تجارت SWEET | by میں مقدمات کی پیروی ریلوے کے محکمہ جات شامل تھے نومبر سے وزارت کا چارج لینے کے ایک دن پہلے میں نے اپنی قانونی پر سیٹیں جاری رکھی اور عدالتی کام میں مصروف رہا۔اس عرصے میں میں نے نی دیوانی کاملنا بند کر دیا۔کیونکہ ٹی دیوانی اپیلوںکی سماعت میرے بقیہ عرصہ پریکٹس میں مکن نہیں تھی۔البتہ " الیسا دیوانی کام میں کرتا رہا تومیں پہلے سے لے چکا تھایا جس کی سماعت کا وقت قریب آنے پر مجھے اس میں وکیل مقرر کیا جاتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کچھ ماہ کے عرصے میں میرے کام میں فوجداری کام کا تناسب پہلے کی نسبت بہت بڑھ گیا۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ھی تھی کہ فوجداری اسپلیں اول اجلاس میں جس میں چیف جسٹس بیگ صاحت شمولیت فرماتے تھے سنی جاتی تھیں اور اس اجلاس میں میری متواتہ کامیابی کی شہرت بہت جلد پھیل گئی تھی۔پھر تو اب بھی ہونے لگا کہ میں ماڈل ٹاؤن سے اپنے دفتر میں صبح آٹھ بجے پہنچتا جو ہائی کورٹ کے عقب میں تھا اور چودھری فضل داد صاحب ایک پھانسی کی سنہا کے خلاف اپیل کی طبع شدہ پیر بک میرے سامنے رکھ دیتے کہ یہ اپیل آج کی فہرست میں پہلے دوسرے یا تیسرے نمبر پر ہے۔میں احتجاج کرتا کہ اتنے تنگ وقت میں پوری تیاری نہیں ہو سکتی۔وہ فرمانے ملزمان کے وارث میرے کمرے میں آبدیدہ بیٹھے ہیں اور بعد مست ملتی ہیں کہ آپ انہیں مایوس نہ کریں۔آپ تامل کریں گے تو وہ اس کمرے میں آکر دا د ملا کریں گے۔آخر آپ مان جائیں گے۔بہتر ہے کہ وہ وقت جو یوں صرف ہوگا تیاری میں صرف کریں۔میں دروازہ بند کردیتا ہوں کسی کو آنے نہ دوں گا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے فضل سے تیز نیم عطا فرمایا ہے۔بہت جلد تیاری ہو جائے گی۔وہ مدد فرمائے گا۔بیجھے میں جاتا ہوں اور ان کو تسلی دیتا ہوں کہ آپ تیاری میں مصروف ہیں۔میں بیچاپر گئی میں نارمان لیتا۔میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق سے کسی کی پوری تیاری کرتا حسین کے دوران میں میں اس بات کا پورا لحاظ رکھتا کہ کونسی دلیل ، شہادت کا کونسا پہلو اور انسانی فطرت کی کونسی خامی چیف جسٹس کے مزاج پر اثر پیدا کر نیوالی ہوگی۔اس کے مطابق میں ایک مختر نوٹ تیار کر لیا اوراپنے ذہن میں ان کو پیش کرنے کی ترتیب طے کرلیتا بفضل الله طریق را کامیاب ہوتا کبھی کبھی مجھے ادانہ ہوتا کہ شاید آج کے کیس میں میں کامیاب نہ ہوسکوں اور میں الہ تعالی کے حضور دعائیں اور زیادہ التجا اور الحاج کرتا۔خاص مشکل کیس کے متعلق والدہ صاحبہ کی خدمت میں بھی دعاء کے لئے گذارش کرتا۔عزیز اسداللہ خان بیرسٹر ان ایام میں میرے ساتھ کام کرتے تھے۔اور ان کی رہائش دفتر کے اوپر کی دو منزلوں میں تھی۔والدہ صاحبہ صبح میرے ساتھ ہی ماڈل ٹاؤن سے تشریف لے آتیں اور شام کو میرے ساتھ تشریف لے جاتیں۔فرمایاکرتی تھیں بیٹا تمہارے موکل نہیں جانتے کہ جب وہ تمہیں وکیل کرتے ہیں تو ساتھ ہی میں بھی اللہ تعالی کے حضور ا کی طرف سے وکیل بن جاتی ہوں۔تم عدالت میں جاتے ہو تو یں دعاوں میں مری ہو جاتی ہوں یا اللہ تواپنے فضل دور i