تحدیث نعمت — Page 366
پر مقرر کیا جائے تو کیا ایسے فاطر العقل کا انتخاب وزیر بہتر کرتے ؟ بیشک اعلی مناصب پر تقرریلوے بورڈ کی سفارش پر اور ایک حد تک کونسل کے رکن کی منظوری سے ہوتا ہے اور اس سے اوپر وائسرائے کی منظوری سے۔لیکن اگرو نہ یہ نا معقول طور پر ضد کرے تو چیف کمشنر کو حق ہے کہ ده خود حاضر ہو کر وائسرائے کو حقیقت حال سے آگاہ کرے۔بیشک ایک مندی نا معقول انسان بہت سی شکلات پیدا کر سکتا ہے لیکن ایک شخص کو مندی اور بہٹ دھرم قرار دینے سے پہلے اس کے متعلق کچھ تجربہ ہونا چاہئے۔یونی بے بنیاد رائے قائم کر لینا خود غیر معقول ہے۔سر جمیز گرگ۔درست ہے۔اصل حقیقت تجربے سے بھی معلوم ہوسکتی ہے۔میں ممنون ہوں کہ تم نے میاں آنیکی نرحمت اٹھائی اور میرے ساتھ بات کر نیکے لئے وقت نکالا۔میں نے اس گفتگو کا خلاصہ بھی وائسرائے سے بیان کر دیا۔وہ محفوظ ہوئے اور کہا کاش میں پردے کے پیچھے سے تم دونوں کی گفتگوسن سکتا۔لاہور واپس آنے پر میں نے یہ ساری کیفیت مختصر الفاظ میں وزیر بند کی خدمت میں نکھرتی آخرمیں لکھامیں میدان میں مجوزہ تبدیلی پر رضامند نہیں لین میں وارے کیلئے اور آپ کیلئے کوئی الجھن بھی پیا نہیں کرنا چاہتا۔میری رائے میں اس مشکل کا حل ہی ہے کہ آپ وائسرائے کی کونسل کی رکنیت کیلئے نیا انتخاب کر لیں کچھ دنوں بعد ان کا جواب آیا۔تمہارا خط ملا ہے۔میں نے وائسرائے کو خط لکھا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ تمہیں کسی مشکل کا سامنانہ ہو گا۔مجھے وائسرائے نے پھر دہلی طلب کیا اور فرمایا : - My MY DEAR I SAMMY, HOAR HAS SENT ME A STINKER مائی ڈیہ سرسیموئل ہور نے مجھے سخت ڈانٹ کا خط لکھا ہے ) اگر تمہیں قلمدان میں تبدیلی منظور نہیں تو میں اس پہ زور نہیں دوں گا۔میں نے تو بھور سے کہا تھا کہ یہ بات اچھی معلوم نہیں ہوتی کہ تمہارے وقت میں تمہارے پاس دونوں محکمے رہے اور تمہارے جانے پر تمہاری جگہ آنیوالے سے ایک محکمہ لے لیا جائے۔اس نے کہا میں ریلوے کا محکمہ ابھی سے چھوڑ دیتا ہوں۔پھر توظف اللہ کو شکایت نہ ہوئی۔میرے پاس صرف تجارت کا محکمہ ہوگا وہ مجھ سے اس کا چارج سے لیگا۔میں نے اس سے کہا یہ تو چال کی ہوگی کہ ساڑھے چار سال تک دونوں محلے اپنے پاس رکھ کر جاتے وقت تم ایک ملک کسی دوست کے سپر د کر دو تاکہ تمہا رے جانشین کے چارنت میں ایک ہی محکمہ جائے۔اس وقت تو اس طور پر یہ بات مل گئی۔معلوم ہوتا ہے سرسوزن بھور کو اس سے ملا ہوا کیونکہ با وجود داٹرائے کی تاکید کے اور اپنے دعارے کے انہوں نے درمیانی پانچ مہینوں سے نہ ائد عرصے میں مجھے ایک لفظ تک ان امور کے متعلق بال نہ کیا جو ان کے قلمدان میں شامل تھے اور جو نہ یہ غور بات یہ بحث آتے رہے اور میں نے جب چارج لیا تو میں بقول ان کے الدامورہ کے متعلق کورے کا کورا تھا۔