تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 365 of 736

تحدیث نعمت — Page 365

۳۶۵ کے کام میں خواہ مخواہ دخل دیگا۔ایک بات میں اپنے متعلق بھی کہ دوں۔اگر یں وائسرائے کی کونسل کا رکن ہو تو اس منصب کی ذمہ داریوں کو بھلا یا کیا نبھانے کی ذمہ داری بھی مجھ پہ ہو گی۔نہ فضل حسین پر نہ جیمز گرگ پر۔سر جیمز گرگ۔میرے لئے یہ امر باعث اطمینان ہوگا۔ظفر اللہ خان۔شکریہ ! اب فرمائے میری فرقہ پرستی کس طرح حکومت ہند کو دیوالیہ کرے گی۔؟ سر میز گرگ۔ملا نہ متوں کے معاملے میں فرقہ واری برتنے سے۔ظفر اللہ خان۔بہت خوب! آپ کو معلوم ہے کہ اعلیٰ ملازمتوں پر تقر پبلک سروس کمیشن کے امتحان کے نتیجے کی باد پر ہوا ہے۔والے کی کون کار کن افرد کےانتخا میں کئی والا نہیں دے سکتا یہاں تک فرد داران نمائندگی کا سوال ہے حکومت ہند نے اپنی ہم جولائی کی جاری کردہ ہدایت میں مسلم نمائندگی کی شرح ۲۵ فیصدی مقرر کر دی ہے بیک وقتا فوقتا مجھ پرمسلمانوں کی طرف سے زور دیا جا سکتا ہے کہ میں اس تناسب کو بڑھانے کی کوشش کروں۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت کی اس ہدایت پر مکمل کرنے کے رستے میں روکیں پیدا کی جائیں۔لیکن جب تک حکومت اس ہدایت میں تبدیلی نہ کرے میرا فرض ہو گا کہ میں اس بات کی نگرانی کردی کہ اس ہدایت پر پورا پورا عمل کیا جارہا ہے۔کیا آپ کو اس سے اتفاق ہے یا اس پر کوئی اعتراض ہے ؟ سر جیمز گرگ۔مجھے اتفاق ہے حکومت کی ہدایت پر عمل ہونا چاہیئے خواہ مجھے وہ ہدایت پسند ہو یا نہ ہو۔لیکن اس سے تفاوت نہ میشی کی طرف جویند کمی کی طرف۔ظفر اللہ خاں۔یہ تو ہی اعلیٰ ملازمتوں کی صورت۔ریلوے کے محکمے میں اس سے نچلا دور بعد لوئر گنز میٹر سروس کا ہے۔اس میں تقریر امتحان کے نتیجے میں ہوتا ہے جس کا اہتمام ریلوے بورڈ کی نگرانی میں ہوتا ہے۔کونسل کے رکن کا اس میں دخل نہیں۔سب سے نچلا اور یہ سیارہ ڈی نیٹ سروسہ کا ہے۔اس میں تقریر کی ذمہ داری ہر ریلوے سٹم کے ایجنٹ پر ہوتی ہے اور وہ اسے ہرمحکمہ کے اعلیٰ افسر کے سپرد کرتا ہے۔یہاں تو کچھ ہوتا ہے اس کی تو صدائے بازگشت بھی کونسل کے رکن کے کانوں تک نہیں پہنچتی اب اور کیا باقی رہا؟ سر جمیز گرگ۔ترقیات اور تبادے۔ظفر اللہ خاں۔سر میز شاید آپ کو معلوم نہیں کہ میرا انتخاب کو نسل کی رکنیت کے لئے وزیرہ ہند نے وائسرائے کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد خود کیا تھا۔میں چار سال سے متواتر ان کے ساتھ گول میز کانفرنس اور مشترکہ کمیٹی میں کام کرتا رہا ہوں۔وائسرائے کی کونسل میں چار ماہ وائسرائے کے ساتھ کام کر چکا ہوں۔اگر میں لیے فہم اور عقل کا مالک ہوتا کہ مثلاً اآسام اور بنگال ریلوے کے چیف انجینیر کی اسامی تعالی ہونے پر ریلوے بورڈ کے ساتھ اٹھ بیٹھتا کہ میرے ایک مسلمان دوست کو جو نام تھے ویسٹرن ریلوے میں فلاں دفتر کا سپرنٹڈنٹ ہے اس خالی ہامی