تحدیث نعمت — Page 328
کرنے کے بعدان کی شہادت کا وزن بہت حدتک ہلکا ہو جاتا اور سوالات تسلیم کرتے جانے سے تو موقف ہندوستان کو مجوزہ آئینی اصلاحات دیے جانے کے خلاف انہوں نے کمیٹی کے سامنے پیش کیا تھ اس کی بنیاد کمزور ہو رہی تھی۔اس دن ان پر میری چو ہے گھنٹہ بھر جاری رہی اور ختم نہ ہوئی تھی کہ اجلاس دوسرے دن پر ملتوی ہوگیا۔دوسرے دن گھنٹہ بھی اور اسی پر صرف ہوا۔جب میں نے مسرحہ چل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جدت ختم کی تو سر پر چل نے کمال قاضی سے فرمایا۔اور پھر میں میں نے تو محسوس نہیں کیا کہ مٹر ظفراللہ ان کو انگریزی ان کی مادری زبان نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مشکل پیش آئی ہو۔جب ہو تے دن کے آخرمیں مسٹر یہ چیل کی شہادت مکمل ہو چکی تو ساری کمیٹی نے دیر تک چین کے ساتھ انہیں خراج تحسین پیش کیا مسٹر چر میں اپنی کرسی سے اٹھ کہ میرے پاس تشریف لائے مصافحہ کی اور مسکراتے ہوئے فرمایا۔YOU HAVE GIVEN ME TWO MOST DIFFICULt Hours bef ORE ترجمہ۔اس کمیٹی کے رویہ تم نے وہ گھنٹے میرا ناک میں دم کئے رکھا۔) " THIS COMMITTEE دو ید اعتراف انکی بڑائی کا ثبوت تھا۔اگر میں کسی خفیق حد تک مسرحہ عمل کے مخالفانہ موقف کا اشاراکین کمیٹی کے ذہنوں سے زائل کرنے میں کامیاب ہو سکا تو اس کا سہرا اول تو نہ یہ ہند کے سرے جنہوں نے مسٹر پر پل پر موئمہ جرح کا مجھے طریق سمجھایا در پھر میان سر فضل حسین صاحب کے سرسے جن کی مساعی کے نتیجہ میں پنجاب کا پسماندہ صوبہ سابقہ اصلاحات کے نظام کو ذمہ دارانہ طور پر چلانے میں ایسا کامیاب ہوا کہ چند ہی سالوں میں اس کا شمارہ ہندوستان کے ترقی یافتہ صوبوں میں ہونے لگا۔میں نے مسٹر وہ پل پر جماع کے دوران میں صوبہ پنجاب کو سی بطور مثال پیش کر کے یہ ثابت کیا کہ مہندستان مزید اصلاحات کیلئے اور۔۔تیار ہے۔بعد میں مسٹری کی کئی بار مجھے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ہمیشہ بیٹے تپاک سے پیش آتے رہے۔بھی کے سامنے سرمائیکل سرمائیکل اڈواٹر بھی اپنے رفقا کے ساتھ شہادت دینے کیلئے تشریف لائے۔اور وائیر کی شہادت جب ان کے سمنے بھی میں نے پنجاب کی مثال پیش کی تو انہوں نے فرمایا مسر ظفر اللہ ان ! تم نے بہترین صوبے کو شال کے لئے چنا ہے۔میں نے کہا مثال تو بہتری کی پیش کی جاتی ہے۔جب میںنے انہیں ایسے منصوبوں کی طرف توجہ دلائی جو صوبہ پنجاب میں عوام کی یہودی کو ترقی دینے کی خاطر جاری کئے گئے تھے تو بعض کے متعلق انہوں نے فرمایا اس کی ابتدا تو میرے وقت میں ہوئی تھی۔یا میرے وقت میں اس پر غور شروع ہو گیا تھانہ یا اس کی طرف تو میں نے توجہ دلائی تھی۔میں نے کہا میری غرض یہ نہیں کہ آپ کی مساعی پر پردہ ڈالا جائے۔میری غرضن تو یہ دکھانا ہے کہ بر صغیر می سیاسی ذمہ داری۔خدمت خلق ، اقتصادی ، صنعتی اور معرفتی ترقی ، تعلیمی اور زمینی پیچی حفظان صحت اور طبی اداروں کے قیام اور فروغ کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں اور دن بدن زیادہ ہو یہ ہی ہیں۔کامن و لیتو در میشیز کا نفرنس ٹارنیٹو میں شرکت | وسم گرما میں کمیٹی کی کاروائی چند ہفتوں کیلئے مقوی ہوی ہندوستانی وفد کے اکثر اراکین اس عرصے کیلئے واپس ہندوستان چلے گئے رائل انسٹی ٹیوٹ آف انٹر نیشینل افیرز کے سیکرٹری