تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 327 of 736

تحدیث نعمت — Page 327

سے پنجابی میں دریافت کیا بھائی کیا کہا تھا اس نے M08 ؟ میں نے کہا نہیں MASSES ) ہاں ہاں آپ معمہ حل نے کہا نے کہا ہے MASSES یعنی عوام کو ان مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں! کیا یہ ٹھیک ہے ؟ مسرحہ چلا۔میں یہ ٹھیک ہے ! ہندوستانی عوام کو ان مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔" سردار صاحب نے پوچھا اچھا تو پھر کھلا آپ " کیا کہیں گے اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ میں MASSES (عوام ) ہوں یہ مسٹر رہ چل نے مسکرا کر جواب دیا :- MASSES I WOULD CONGRATULATE THE میں عوام کو مبار کیا کہوں گا ) اچھا ہوا کہ سر دارد صاحب اور مروجہ میل کے درمیان ایسے طائف کا سلسلہ کوئی میں منٹ جاری رہتا۔اس سے کمیٹی کی کاروائی کی انتہائی سنجید گی کچھ ہلکی ہو گئی۔جب میری باری آئی تو مسٹر یہ پہل نے سوچا ہو گا کہ ایک دائرہ ھی والے نے مضحکہ خیری کا مظاہرہ کر لیا اب دیکھیں دوسرا داڑھی والا کیا گل کھلاتا ہے۔اتفاق سے ہم تھے بھی دونوں پنچائی بھاٹ۔مرحمہ حل پر میری جموح | مسرحہ پھل اگر چہ کمیٹی کے رو برد گواہ کی حیثیت میں آئے تھے اور چندسالوں سے انہوں نے وزارت میں حصہ نہیں لیا تھا لیکن مسلم طور پر وہ برطانوی سیاست کے آسمان کے ایک درخشندہ ستارے تھے۔ایک ڈیوک کے پوتے ، ایک وزیر خزانہ کے بیٹے۔پہلی عالی جنگ میں برطانیہ کے سحری محکمہ کے وزیہ ، ایک صاحب تجربه سیاسی قاید، ایک بار رعب رکن پارلیمنٹ ، ایک بلند پایہ ادیب ، ایک نامور نقاد اور مورخ ، غرض ہر لحاظ سے دو ایک قابل احترام شخصیت تھے۔اور ایسی کمیٹوں میں تو گواہ کی بھی وہی حیثیت ہوتی ہے جو ارکان کی ہوتی ہے۔میں نے اپنے سوالات اور لب لہجہ میں ان کا پورا احترام مد نظر رکھا اور وہ بھی بہت خوش اخلاقی سے جواب دیتے گئے۔پہلے پہلے تو میرے سوالات کا بلا نام جواب دیتے۔جو بات تسلیم کرنے کے لائق ہوتی تسلیم کرتے اور جب اس کا اعتراف کرنا پڑتا عترت کرتے۔لیکن جب انہوں نے اندازہ کیا کہ یہ تو میرے مسلمات سے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ہندوستان نہ صرف آزادی کا طاب لت ہے کہ آزادی کیلئے تیار بھی ہے توان کے رویہ میں تبدیلی ہوئی اور میرے سوالات کو ٹالنا شروع کیا ایک سوال کو جب دوبارہ ڈال چکے تومی نے عرض کیا سٹر ی میں مجھے ہی شکل در پیش ہے کہ انگریزی میں مادری زبان نہیں اور می با وجود روانہ کوشش کرنے کے اپا مطلب آپ پر واضح نہیں کر سکا اگر آپ اجازت دیں تو میں پھر کوشش کروں۔چونکہ اب وہ محتاط ہوچکے تھے اسلئے مجھے اپنے سوالات کو اس طریق پر ڈھالنا تھا کہ جواب میں انہیں ٹانے کی گنجائش نہ ہو۔مجھے یہ بھی فائدہ تھا کہ جیسے وزیر مہند نے مجھے بتایا تھا مٹر جیہ میں ہندوستان کی موجودہ حالت سے واقف نہ تھے۔میں نے جب یہ ثابت کرنے کی وشش شروع کی کہ آزادی کیلئے جو معیار سر یہ میں نے خود پیش کیا ہے ہندوستان اسے بہت مدرک پورا کرتا ہے اور اس ادعا کے بوت میں وا تعالی تصویر کے نقوش کھنچنا شروع کئے بخصوص صوبہ پنجاب کے حالت کی بنا پر جن سے دو واقف نہیں تھے تو انہیں سلیم کئے بغیر چارہ نہ رہا۔اگر وہ ہر سوال کے جواب میں کہتے مجھے اس کا علم نہیں تو دو تین بار عدم علم کا اعتراف