تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 299 of 736

تحدیث نعمت — Page 299

۴۹۹ یہ کرلیاکہ میں یہ سوال نہیں کروں گا۔اگر وہ بتانا پند فرمائیں گ تو خود فرمائیں گے۔اتنے میں چائے کا وقت ہو گیا تو میرے لئے بجائے اپنے کمرے میں منگوائی۔آخر فرمایا مں نے تمہیں اس کے لایا ہے کہ وزیر سند کا امر ہے کہ تم میری گول میز کانون میں ضرور شال ہو اسلئے تم دلی جاؤ تو حیف کمر سے کہ دنیا کہ تمہیں اب ساندنش کے مقدمے کی پیروی ترک کرنا ہوگی وہ ابھی سے سوچ لیں کہ تمہاری جگہ کس کا تقر مناسب ہو گا۔میں نے عرض کیا آپ کا ارث رہے تو میں ایس ہی کردوں گا لیکن مقدمے کی سماعت کی رفتار تو بہت ہی سست ہے۔پچھلے سال جب میں گول میز کانفرنس میں شمولیت کیلئے لندن گیا تھا تو میری واپسی پر دہی گواہ سلطانی زیر جورج تھا جسے میں زیرہ جورج چھوڑ گیا تھا۔چودھری محمد امین صاحب کو میری غیر حاضری میں کوئی دقت پیش نہیں آئی تھی۔فرمایا کیا تمہاری غیرحاضری ہی ہوگی۔پہلے چار سینے میری جگہ کام کرناہو کا پرگول میز کانفرنس میں جانا ہوگا۔مناسب ہی ے کہ تم مقدمے کی ذمہ داریوں سے آزاد ہو جاؤ میں نے کہا اگر آپ کی یہ کام کرنا ہو تو ہر تو مجھے مقدمے سے علیحدہ ہو جانا چاہے فرمایامیں نے والا ہے سے بات کر لی ہے۔وہ رضامند ہے لیکن تم اس نظام کو پختہ بہی سمجھنا جب تمہیں وائٹ ہے کی طرف سے اطلاع ہے۔میں نے شکریے کے اظہارمیں کچھ کہا جاتالیکن آپنے ٹال دیا اورمجھے اور رخصت کر دیا۔میری روانگی کا وقت بھی قرب تھا۔دوسری میں میں دلی پہنچ گیا۔اسی صبح ٹریبیون اخباریں یہ برائی ہوئی کہ میں سر فضل حسین صاحب چار مہینے کی رخصت پر جانے یں اور اندازہ ہے کہ ن کی جب اس عرصے کیلئے ہور کے ایک وکیل کا تقری ہوگا۔یہ تر بود در صدر علی اور ایسٹ جیا نے جو تقدیر سازش کے ملزمان کو جیل سے عدالت لانے اور ے جاتے تھے یوں مجھے اکابر کو معلوم ہوا ہے میں ان کی جا تیار ریم نوالہ میں انہیں یہ کہ کیا دیا کہ برص کوئی نام درج نہیں۔دوسری صبح انہوں نے پر تلیفون کیا کہ آ نام چپ گیا ہے لیکن ڈاکٹر محمد قال کانام ہے تمہارا نہیں میں نے کہا ڈاکٹر صاحب میری نسبت کہیں زیادہ اس کے اہل ہیں۔اس کے تیرے دن مجھے وائسراے کا خط ملا۔چونکہ معاملہ ابھی تک بصیغہ راز تھا اسلئے لازم تھا کہ جیسے انہوں نے مجھے اپنے ہاتھ سے خود لکھا تھا میں بھی انہیں اپنے ہاتھ سے جواب لکھوں اور پھر خود ہی ڈاکھانے جاکر خط کو ذریعہ بڑی بھیجنے کا انتظام کروں۔اگر یہ کام کسی اور کے سپردکرتا و اندیشہ تھاکہ بات ظاہر ہو جاتی۔جواب لکھ کرمیں نے گاڑی کیلئے آواز دی۔دوپہر کا وقت تھا میری المیہ نے بھی میری آواز سن لی اور پو چھا گرمی میں کہاں جارہے ہو؟ میں نے کہاور اڈا کھانے تک ایک اور بیٹری کرانے جا رہاہوں کہ الایم کو کیوں نہیں دیتے ؟ میں نے کہا یہ کام عبدالکریم کے کرنے کا نہیں ان دنوں میڈ ستر ہوٹل کے پھاٹک کے برج میں ایک چھوٹا سا ڈاکخانہ تھا میں خط وہاں لے گیا اور رجسٹری کرنے کیلئے پیش کیا۔مجھے رجسٹری کے قواعد کا علم تھانہ خط پر بری کرنیکا تجربر با او صاحب خط دیکھ کر برافروختہ ہوئے۔شاید یہ پڑھ کر خیال کیا ہوکہ یہ کوئی منگتا ہے جس کے بگڑے ہوئے دماغ میں خیال آیا ہے کہ چلوائی ہے ہی سے کچھ مانگ لیں خو میری طرف واپس پھینک کر غصےکے لیے میں کہا آجاتے ہیں کہیں کے نہ عقل نہ مجھے یہ بلوفارم اسے پر کر کے لاؤ میں نے ان سے معذرت کی اور فارم پر کر کے پیش کردیا۔کچھ دنوں بعد جب سرکاری اعلان ہو گیا تو درگا و اس صاحب نے جو شملہ مں ٹڑیوں کے نمائیندے تھے اخبارمیں لکھا۔میاں صاحب کی جگہ ایک اپنے درجے کے وکیل کا فقر ہو اہے