تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 255 of 736

تحدیث نعمت — Page 255

۲۵۵ ایل کے فوراً بعد میری ایک اور اپیل کی سماعت شروع ہوئی۔کیمپل پور کے ضلع کے ایک گاؤں س کا ایک شخص راولپنڈی میں پولیس کنسٹیبل تھا۔اس نے سپرینڈنٹ پولیس کی خدمت میں درخواست دی کہ میرے گھر میں فلاں شخص نے بہت فاو بہ پا کر رکھا ہے۔مجھے دس دن کی رقصت عطاء کی جائے میں گھر جاکمہ اس کا تدارک کروں رخصت ملنے پر وہ اپنے گاؤں گیا۔رات کے وقت پہنچا۔اپنے گھر جانے کی بجائے اپنے چازاد بھائی کے گھر گیا۔وہاں اپنے چند اور رشتہ داروں کو جمع کیا۔اور سب لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے مسلح ہوکر کٹیل کے گھر گئے دروازہ کھٹکھٹایا دروازہ کھلنے پراندرگئ اوردیکھاکہ علاوہ سٹیل کی بیوی کے دو شخص بھی موجود ہے جس کا نام اس نے رخصت کی درخواست میں درج کیا تھا۔سب نے مل کر دونوں پر حملہ کر دیا اور دونوں کو شدید فریبا پہنچائیں جن کے نتیجے میں وہ غیر شخصی تو وہیں مرگیا لیکن عورت کی جان بچ گئی سیشن جے نے سب منہ مان کو زیر رفات ۳۲۵ ، ۳۲۶ ، ۱۳۹ محرم قرامہ دیگر جوسزائیں دیں ان کا مجموعی عرصہ چودہ سال قید با مشقت بنتا تھا۔میں نے واقعات بیان کئے۔مسٹر جسٹس آغا حیدر۔مسٹر ظفر اللہ خاں میری رائے میں تو جرم دفعہ ۳۰۴ الف کی زد میں آتا ہے۔تمہاری کیا رائے ہے ؟ ظفر اللہ خان۔جناب عالی مجھے آپ کے ساتھ اتفاق ہے۔لیکن پھر بھی سزا کا سوال ہے۔واقعات کے مد نظر سزا بہت سخت ہے۔مٹر جٹس آغا سیدر۔بے شک بے شک سزا کی تجویز مجھ پر رہنے دیں۔مسٹر ساہنی سزا کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں۔مسٹر سائنی۔جناب عالی۔اس کیس میں تو کسی اشتعال کا بھی سوال نہیں۔ملزمان کے سرغنے نے اپنی رخصت کی درخواست میں لکھاکہ در منقول کی بیخ کنی کے لئے گھر جانا چاہتا ہے۔راولپنڈی سے وہ یہ عزم کرکے چلا۔گاؤں میں پہنچ کر اس نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کیا اور وہ قتل کا منصوبہ بنا کر حملہ آور ہوئے۔یہ برم تو واضح طور پر قتل عمد ہے۔پیشین بج کو چاہیے تھا وہ حملہ ملزمان کو دفعہ ۳۰۲ تعزیرات ہند کے ماتحت مجرم قرار دیکر سب کو پھانسی کی سزا دنیا۔ملزمان بہت خوش قسمت ہیں کہ ان کی جان بخشی ہوئی۔چودہ سال قید بامشقت تو پھانسی کے مقابلے میں بڑی نرم سزا ہے۔میں حیران ہوں کہ میرے فاضل دوست تخفیف سزا کے خواہشمند ہیں معلوم نہیں کس بنا پہ۔! مسٹر جسٹس آف میدہ - اشتعال کی بنا پر۔مقتول کا اس شخص کے گھر میں کیا کام تھا اور پھر رات کے وقت۔؟