تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 241 of 736

تحدیث نعمت — Page 241

دیکھیں گے یا عدالت ابتدائی میں اس کیس کا فیصلہ ایک مندرجج نے کیا تھا۔دونوں فریق مسلمان تھے۔عدالت ابتدائی میں مدعیان کا جواب اسپلانٹ تھے، وکیل ہندو تھا۔بلکہ اس نے مدعیان کو دعوی دائرہ کرنے پہ آمادہ کیا تھا۔ہائی کورٹ میں بھی ان کے وکیل مندر تھے۔سرموتی ساگر نے کوئی گھنٹہ بھر بحث کی ان کی بحث ختم ہونے پر مجھے اطمینان تھا کہ اس کیس میں بخشی صاحب کی باریک بیں نگاہ بھی ہمارے خلاف کوئی بات تلاش نہ کر سکے گی۔میں نے بحث شروع کی اور بخشی صاحب نے ہر قدم پر ہمارے کیس میں عیب اور ستم دیکھنے شروع کئے۔میں ایک بات کا جواب دنیا۔وہ میری دلیل کے تین جواب دیتے۔بحث لمبی ہو گئی۔اور یقینی لمبی ہوتی گئی بخشی صاحب کا عزم نمایاں ہوتا گیا بخشی صاحب کے قاعدہ نمبر کے ماتحت اپیل منظور ہو گئی۔جائیداد منتانہ عہ کی اہمیت اتنی تھی کہ ہم استحقاقا پر پیری کونسل میں اپیل کرنے کے مجاز تھے۔پریوی کونسل کے حج اعلاس میں اپیل کی سماعت ہوئی اس کے صدر لارڈ الیکن تھے جو اپنے وقت کے قابل تمرین جھوں میں شمار ہوتے تھے۔لارڈ میکمان ، لارڈ رائٹ اور سرلا سبیلٹ سانڈریسن بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔میں نے واقعات بیان کئے لارڈ اٹیکین نے کہا دونوں عدالتوں کے فیصلے پڑھ کر سناؤ۔فیصلے پڑھ دینے کے بعد جب میں سحبت شروع کرنے کو تھا۔تو دار ڈائیگن نے کہا تمہاری بحث سننے کی ضرورت نہیں۔وکیل مخالف سے کہا آپ بتائیں ہائی کورٹ کا فیصلہ کیسے قائم رہ سکتا ہے۔آدھ گھنٹے کے قریب وکیل صاحب اپنی طرف سے ہائی کورٹ کے فیصلے میں جان ڈالنے کی بے سود کوشش کرتے رہے۔میرے جواب کی نوبت ہی نہ آئی۔فیصلہ محفوظ ہوا۔چند دن بعد اطلاع مل گئی که اپیل منظور ہو کر ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ اور عدالت ابتدائی کا فیصلہ بحال ہوا۔فیصلے کی اطلاع مل جانے کے بعد ایک تقریب میں کارڈائین سے میری ملاقات ہوئی۔انہوں نے دریافت کیا تمہیں کچھ معلوم ہے کہ اس کیں میں پس پردہ کیا بات تھی جو ہائی کورٹ میں اس فیصلے کا باعث ہوئی۔میں نے کہا مجھے معلوم تو ہے لیکن میں کہنا نہیں چاہتا۔مسکرائے اور فرمایا ضرور کوئی لوکل تعصب ہو گا۔سردار سر محمد نوانہ خان صاحب کوٹ فتح خان اسٹیٹ کے مالک اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے مزارعان اور دیگیر مالکان سے بعض و اسبات کی وصولی کا فتق رکھتے ہیں۔اسٹیٹ میں ایک ڈھیری (سکھ مذہبی ڈیرہ ، ہے جس کے مہنت صاحب نے دوران بند دوست عزیہ کیا کہ سردار صاحب ڈھیری سے متقی بوھا وصول کرنے کے حقدار نہیں۔یہ عذر ر د ہوا۔مہنت صاحب نے عدالت مال میں چارہ جوئی کی لیکن فناشل کمشنر کی عدالت تک فیصلان کے خلاف رہا۔پھر انہوں نے عدالت ہائے دیوانی کی طرف رجوع کیا کہ قرار دیا جائے کہ سردانہ صاحب ڈھیری سے حق بورھا وصول کرنے کے مجانہ نہیں۔سردار صاحب کی طرف سے عذر کیا گیا کہ ان واجبات کے متعلق فیصلے کا اختیار صرف عدالت ہائے مال کو ہے۔دیوانی عدالت کو اختیار سماعت نہیں ڈھیری ہمیشہ سے یہ واجبات