تحدیث نعمت — Page 240
انتہائی حد تک کمزور کرنے میں صرف کیا۔وہ نہایت قابل قانون دان تھے۔کمزور دلیل کو مضبوط اور مضبوط دلیل کو کمزور کر دکھانا ان کا ذہنی مشغلہ تھا۔انہوں نے جو طریق کار اپنے لئے بخو نہ کیا اس پر منوانہ کا بند ہے۔جب میاں سر فضل حسین صاحب نے سرکاری اعلی تعلیمی اداروں میں مسلمان طلباء کے لئے پالیس فیصدی نشستیں محفوظ کرائیں تو بخشی صاحب جو ان دنوں پریکٹس کرتے تھے کہا کرتے تھے فضل حسین چالیس فیصدی مقدمات بھی مسلمان د کلا و کو بھجوانے کا انتظام کرے! جی کی کرسی پر بیٹھتے ہی آپ نے جیسے تہیہ کر لیا کہ ان کے اجلاس سے کوئی مسلمان فرق مقدمہ ہندو فریق کے خلاف کامیاب نہ ہو سکے گا۔نہ کوئی مسلمان وکیل کسی مندد وکیل کے مقابلے میں کامیاب ہو سکے گا۔اور آخر تک انہوں نے اس قاعدے سے کبھی انحراف نہ کیا۔بخشی صاحب کا طریق کار یہیں تک محدود نہیں تھا۔ان کا منصوبہ ایک مکمل منصوبہ تھا جس کے موٹے اصول ہی تھے۔(۱) اگر فریق مقدمہ ایک جانب المان اور دوسری جانب غیر مسلمان ہو تو فیصلہ غیرمسلمان کے حق میں ہوگا۔(۲) اگر دونوں فریق مسلمان ہوں اور ایک فریق کی طرف سے ہندو وکیل ہوا اور دوسرے کی طرف سے مسلمان تو فیصلہ ہندو کیل کے حق میں ہو گا۔(۳ ) اگر دونوں فریق مسلمان ہوں اور دونوں کے وکلاء مسلمان ہوں تو فیصلہ اس فریق کے حق میں ہو گا جس کے وکیل کو دوسرے فریق کے وکیل کے مقابلے میں بخشی صاحب کم قابلیت کا سمجھتے ہوں۔سرشادی لال مبنا عرصہ چیف جسٹس رہے مسلمانوں کو ان کے ہاتھوں بہت نقصان پہنچا اور بہت نا انصافیاں ان کے ساتھ ہوئیں۔لیکن مقدمات کے فیصلے میں وہ کھلے بندوں بخشی صاحب کی سی حیات اور حوصلے کے ساتھ انسان کے گلے پر چھری نہیں پھرتے تھے۔سر شادی لال کے فیصلوں میں ممکن ہے تلاش کرنے پہ کچھ مثالیں نبشی صاحب کے وضع کرده تین قوائد کے خلاف مل جائیں۔لیکن ان کے ہاتھوں سب سے بڑا ظلم ہو مسلمانوں اور اصول انصاف کے ساتھ ہوا ده بخشی صاحب کو کرسی عدالت پر بٹھانے ہی محمد ہونا تھا۔بخشی صاحب کو بیچ مقرر ہوئے ابھی تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا کہ چودھری بشیر احمد صاحب نے جو اس وقت تک ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ ہو چکے تھے اور میرے ساتھ کام کرتے تھے کہنا شروع کیا کہ منشی صاحب کبھی کوئی فیصلہ تمہارے حق میں نہیں کر یں گے۔میں انہیں ہر بارہ ان کے ایسا کہنے پر کھانا کہ ایک حج کے متعلق ایسی رائے قائم نہیں کرنی چاہیئے کہ وہ تعصب سے کام لیتے ہیں۔بشراحمدمسکرا کر کہ دیتے اچھا دیکھ لینا کچھ عرصہ بعد ایک دیوانی اول اپیل کی جس میں میں رسپانڈنٹ کی طرف سے وکیل تھا۔بخشی صاحب اور مسٹر جسٹس سجانسٹن کے اجلاس میں سماعت ہوئی اسپلانٹ کی طرف سے سرموتی ساگر وکیل تھے۔اجلاس کو جاتے ہوئے چودھری بشیر احمد صاحب نے مجھ سے کہا تمہارا کیا اندازہ ہے اس کیس میں کیا ہو گا۔میں نے کچھ دق ہو کہ جواب دیا ہمارا کیں ایک مضبوط ہے کہ کوئی عدالت یہ کیں مہارے خلف فیصلہ نہیں کر سکتی۔چودھری صاحب نے پھر مسکرا کہا اچھا