تحدیث نعمت — Page 228
۲۳۸ کسی رنگ میں محتاج نہیں۔حضور نے فرمایا۔چودھری صاحب نے سلسلہ میں پختہ وعدہ کیا تھا کہ وہ آئیندہ ضلع سیالکوٹ سے انتخاب کے لئے امیدوارہ نہیں ہوں گے۔اس الیکشن میں ان کا ارادہ ضلع گورداسپور سے امبر دار ہونے کا بھی ہے۔اس حلقے میں ہم ان کی ہر طرح سے مدد کرنے کو تیار ہیں اور ممکن ہے یہاں سے وہ بلا مقابلہ ہی منتخب ہو جائیں۔لیکن ضلع سیالکوٹ کے متعلق انہیں اپنے عہد پر قائم رہنا چاہیے۔فرمایا کہ انہیں یہ جواب لکھنے سے پہلے میں چاہتا تھا کہ تم سے بھی دریافت کرلوں۔لاہور واپس آنے کے بعد جب انڈین کیستر کے دفتر سے مجھے کچھ کام بھیجا گیا تو میں نے واپس کر دیا اور کہ دیا کہ آئندہ مجھے کام نہ بھیجا کہ میں۔دوسرے دن نخود هری صاحب میرے مکان پر تشریف لائے اور دریافت فرما یا ظفر اللہ خا کیا وجہ ہوئی تم نے انڈین کینز کے کام کے متعلق کہلا بھیجا ہے کہ آئندہ تمہیں نہ بھیجا جائے میں نے عرض کیا میں آپ کے ساتھ کار میں بیٹھ جاتا ہوں آپ کہ ڈرائیور کو ارشاد فرمائیں کہ کار نہر کے کنارے کنارے سے پہلے وہاں میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ آپ کے سوال کا جواب عرض کردوں گا لیکن اگر آپ نے کچھ فرمانا ہو تومیرا جواب سن لینے کے بعد فرمائیں۔مسکرا کہ فرمایا بہت اچھا۔میں نے ان کے اس خط کا ذکر کیا جو انہوں نے حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت میں ارسال کیا تھا اور کہا کہ اس میں آپ نے فرمایا کہ مجھے آپ سے فائدہ پہنچتا رہتا ہے اس بت سے مجھے کوئی ر ی تونہیں ہوا کیونکہ جو کچھ آپ نے لکھاہ امر واقعہ ہے لیکن آپ کے اس فقرے نے میرے ذہن میں خیالات کی ایک مباری کردی۔انسان کا اندازہ اپنی ذات کے متعلق صحیح بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔میرا اندازہ اپنے متعلق یہ ہے کہ میں سنی الوسع حفظ مراتب کا خیال رکھتا ہوں اور جس شخص کو اللہ تعالے نے جس مقام پر کھڑا کیا ہو اس کے کچھ واجبات مجھ پر عاید ہوتے ہیں انہیں مناسب طور پر ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔مثلاً سر شادی لال چیف جسٹس ہیں۔بہت سے امور میں مجھے ان کے طرز و طریق سے اختلاف ہے۔ان کی بعض کمزوریاں تو آشکارہ ہیں۔میں ان کی عدالت میں پریکٹس کرتا ہوں۔سال میں اوسطاً ایک مرتبہ میں چند منٹوں کے لئے ان کی خدمت میں حاضر جو آتا ہوں۔ممکن ہے ان کو اس سے حیرت بھی ہوتی ہو کہ میں نہ ان کی خوش امد کرتا ہوں نہ کوئی غرض پیش کرتا ہوں۔لیکن میں کسی خوف یا طمع کی وجہ سے ان کی خدمت میں حاضر نہیں ہوتا۔میرے دل میں کسی انسان کا خوف ہے نہ کسی سے کوئی طمع ہے۔آپ میرے بچپن سے میرے ساتھ حسن سلوک کرتے رہے ہیں۔میں اس کی قدر کرتا ہوں اور آپ کا ممنون ہوں۔آپ نے مجھے آپ سے فائدہ پہنچنے کے متعلق جو کچھ لکھا اس سے مجھے خیال پیدا ہوا کہ میں خود اپنا امتحان کر لوں کہ کیا جیسے میں سمجھتا ہوں میرے دل میں آپ کا احترام آپ کے گذشتہ حسن سلوک کی وجہ سے والد صاحب کے دوست ہونے کی دستہ سے ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ جسے میں احترام سمجھتا ہوں اس کی حقیقت آئیندہ کے طمع کی خاطر خوشامد کی ہے۔میں نے انڈین کینر کا کام اسلئے بند کر دیا ہے کہ حلب منفعت کا پہلوہ ہمارے تعلقات سے خارج ہو جائے۔اگر آئیندہ :