تحدیث نعمت — Page 6
ماسٹر غلام محمد صاحب سے کہا کہ اسے ایک سال کیلئے روک لیا جائے کیونکہ یہ آشوب چشم کی وجہ سے پڑھائی کی طرف پوری توجہ نہیں دے سکا والد صاحب یہ بھی چاہتے تھے کہ مجھے کچھ وقت کیلئے پڑھائی سے کامل غرات مل جائے۔ماسٹر صاحب نے کہا کہ اس کا ذہن صاف ہے۔اور باوجود اس کے کہ گرمیوں میں یہ پڑھ نہیں سکتا جماعت میں اچھا چلتا ہے۔آپ اسے امتحان میں بیٹھنے دیں۔اگر پاس ہو جائے تو پھر آپ چاہیں تو اسے ایک سال فارہ نغ رہنے دیں۔اگر پاس نہ ہوا تو بہر حال اسے آئندہ سال ہی امتحان میں میٹھنا ہوگا۔چنانچہ میرا داخلہ بھیج دیا گیا۔اور اللہ تعالی کا ایسا افضل ہوا کہ میں اول درجہ میں پاس ہو گیا۔اور اپنے مدرسے میں اول رہا۔نتیجہ معلوم ہونے کے بعد نہ مجھے خیال آیا کہ ایک سال فارغ رہا جائے اور یہ میرے والد صاح نے کوئی ایسا خیال ظاہر کیا میٹریکولیشن کے امتحان کے وقت میری عمر ۱۴ سال تھی۔والدہ صاحب کی خواہش پر والد صاحب کی بڑی خواہش تھی کہ مجھے قرآن کریم کا ترجمہ آجائے چنانچہ کی قرآن کریم کا نہ جمہ سیکھنا اہدایت کے ماتحت میں قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کیلئے مولوی عبدالکریم قصاب کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔جو کچی مسجد کے امام تھے بسلسلہ احمدیہ میں بعیت ہونے کے بعد والد صاحب نے فرمایا کہ اب تم قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کے لئے جناب مولوی فیض الدین صاحب رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں کبوتراں والی مسجد میں حاضر ہوا کرو۔مولوی صاحب موصوف بھی انہی ایام میں بیعت ہوئے تھے وہ مجھے بڑی شفقت سے پڑھایا کرتے تھے۔لیکن میں آشوب چشم کی وجہ سے باقاعدہ حاضر نہیں ہو سکتا تھا اس لئے میری ترجمہ سیکھنے کی رفتار سست تھی۔جب میٹر کولیشن کے امتحان میں تقریباً چھ مہنے باقی رہ گئے تو والد صاحب نے دریافت فرمایا کہ قرآن مجید کا ترجمہ کہاں تک پڑھ لیا ہے۔میںنے عرض کی کہ ساڑھے سات پارے ختم کئے ہیں۔اس پر انہوں نے فرمایا کہ اس رفتار سے تو تم کا لج جانے تک شاید درس پاسے بھی ختم نہ کر سکو اور میری بڑی خواہش ہے کہ کالج جانے سے پہلے تم سارے قرآن کریم کاکم سے کم سادہ ترجمہ ضرور سیکھ لو۔اس سے آگے تمہارے اپنے ذوق اور اخلاص پر منحصر ہے لیکن اس قدر سکھا دیا میرا فرض ہے۔اب وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے۔تم دن میں فراغت کے وقت دو تین رکوع کا تر جمہ دیکھ لیا کرو اورشام کو مجھے نادیا کرد۔چنانچہ اس طریق سے انہوں نے امتحان تک مجھ سے قرآن کریم کا نہ جمہ سن لیا۔جہاں تلفظ یا ترجمے میں مجھے سے غلطی ہوئی آپ مجھے بتا دیتے۔اولاد پر ماں باپ کے احسانات کا سلسلہ لامتناہی ہوتا ہے۔مجھ پر میرے والد صاحب کے بے پایاں احسانات میں سے ایک احسان عظیم یہ تھا کہ انہوں نے مسلسل توجہ فرما کر مجھے قرآن کریم کے سادہ ترجمے سے شناسا کرا دیا۔اور اس کے نتیجہ میں قرآن کریم کے ساتھ میری اجنبیت دور ہوگئی اور میرے دل میں قرآن کریم کا احترام اور عظمت قائم ہوگئے۔اور مجھے قرآن کریم سے محبت ہوگی۔جنابہ اللہ احسن الجزاء۔1