تحدیث نعمت — Page 216
۲۱۶ آسکر سے ملنے کیلئے یورپ کا سفر کیاء میں میں نے دار کا ہی کی لیکچراری سے استعفی دید بیان دین کیبیز کی ایڈیٹری کے فرائض سے میں سبکدوش ہو چکا تھا گو تو کام مجھے گھر پہ بھیج دیا جاتا تھا وہ میں کہ دنیا تھا۔اس عرصے میں میں متواتہ مصروف رہا۔انگلستان سے واپس آئے مجھے دس سال ہونے آئے تھے۔عالمی جنگ نے اقدار حیات میں انقلابی تفاوت پیدا کر دیا تھا۔یورپ کی تہذیب تمدن، سیاست پر ایک نہ لزار عظیم آچکا تھا۔ہندوستان مفضل اللہ جنگ کی نہ دیں نہیں آیا تھا۔لیکن جنگ کے نتیجے میں ایک انقلابی دور میں داخل ہو چکا تھا۔میں نے چاہا کہ میں دو تین مہینے فراغت حاصل کر کے یورپ سے ہو آؤں اپنے عزیه دوست آسکر یہ نامہ سے جو ان دنوں یہ منی میں قیام پذیر تھے دوبارہ ملنے کی خواہش کا بھی اس پروگرام میں بہت دخل تھا۔میں نے پاسپورٹ کی درخواست دی پاسپورٹ تو مل گیا لیکن محکم متعلقہ نے اس میں جمہ منی کا نام شامل کرینے سے انکار کر دیا۔میں نے اطالوی کمپنی کے بجہاز سے بھیٹی سے دمنیں جانے کا انتظام کیا تھا۔وہیں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ وہاں برطانوی نائب کو نسل کا دفتر ہے۔و منیس میں ماں لک کے دفتر کی معرفت مجھے آسکہ کا برلین سے لکھا ہوا خط بھی مل گیا۔وہ خط لیکہ میں کونسل خانے میں گیا اور بتایا کہ مجھے ان دوست کو ملنے کے لئے بعد مبنی بجانا ہے اور پاسپورٹ میں حجر منی کا نام درج کراتے کی ضرورت ہے۔افسر متعلقہ نے خط پڑھ کہ اسٹریا اور حجم منی کے نام پاسپورٹ میں درج کر دیئے۔پہنیں سے میں بذر بعد ریل دی آئینا گیا وہاں تین دن ٹھہرا۔ان دنوں آسٹریا کے سکے کی قیمت بہت گری ہوئی تھی۔آسٹرین سکے کے لحاظ سے میں دو تین دن لکھ پتی بنا ر یا دو جوڑے جوتوں کے محمد یارے جن کی قیمیت پانچ لاکھ کر اؤن اوا کی۔بر طانوی کے میں میں کل رقم تین پاؤنڈ پانچ شلنگ بنی۔جوتے بہت عمدہ تھے میرے بہت کام آئے۔دی آئینا سے میں بذر بعہد ندیل براستہ پراگ بہ بن گیا اور وہاں آسکر کے پاس بارہ دن ٹھہرا۔ان کی ہمشیرہ ایس بھی ان کے ساتھ رہتی تھیں۔میر قیام برلن کے دوران آسکر نے فیصلہ کیا کہ وہ میرے ہمراہ انگلستان چلیں گے اور انہیں اس سفر کیلئے اور لندن میں عارضی قیام کیلئے اجازت نامہ مل گیا۔" حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی سہ کے موسم گرما میں لندن میں ایک کانفرنس برٹش ایمپائر لندن مذاہب کا نفرنس میں شرکت کے مختلف مذاہب کے نمائندوں کی ہونے والی تھی حضرت خلیفہ المسیح الثانی ماکو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی جو حضور نے منظور فرمائی تھی۔کانفرنس کے سلسلے میں حضور نے احمدیت یا حقیقی اسلام تصنیف فرمائی تھی اس کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کا ایشاد بھی خاک رکھ ہوا تھا۔خاک یہ انگلستان کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے تین چھ تھائی حصہ مسودے کا ترجمہ کر سکا تھا