تحدیث نعمت — Page 211
سے ہی مخاک ارنے یہ قیاس کر لیا تھا اور بخاک رہنے حضور کے منشاء کے مطابق نہ بان کو ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔تم مجھے کی نظر ثانی میں حضور خود شامل تھے اور حضورہ کے ساتھ صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے ایم اے مولوی شیر علی تھا جب ایم اے اور ماسٹر محمد دین صاحب بی اے بی ٹی شریک تھے۔اس مجلس کا اجلاس فجر کی نمازہ کے بعد شروع ہو جاتا تھا۔اور عشاء کی نماز کے بعد تک جاری رہتا تھا صرف نمازوں اور کھانوں کیلئے توقف ہوتا تھا۔گوردونوں دن مد د رابعہ کی مصروفیت رہی اور کام بھی پوری توجہ اور احتیاط کا طالب تھالیکن اس پاکیزہ محبت اور صالح مصروفیت کے دوران میں طبیعت ایک لمحہ کے لئے بھی اکتائی نہیں نہ کسی وقت کوئی کوفت محسوس ہوئی حضرت صاحب کی بشاش طبیعت نے حضور کے سب رفقاء کو بشاش اور خرم رکھا۔کتاب وقت پر تیار ہوگئی اور اس کی ایک خاص معبد چاندی کے وی توں یکس میں شہر ادہ و علینہ کو پیش کر دی گئی۔چالیس سال بعد اقوام متحدہ کی اسمبلی کا سترھواں اجلاس نیو یارک " میں ہو رہا تھا جس کا میں صدر تھا۔ایک دن دوپہر کے کھانے کی دعوت سے لوٹنے پر میں جلدی میں اپنے رے کی طرف جارہا تھا کہ دیکھ اقوام متحدہ کے قانونی مکہ کے ڈائر کٹر ایک صاحب کے ساتھ کھڑے گفتگو میں مصروف ہیں۔میں نے ان سے پہلو بچا کر نکلنا چاہا انہوں نے ہاتھ بڑھا کر مجھے ٹھہرا لیا اور کہا صاحب صدر اتنی جلدی کیا ہے ذرا یہ کیئے میں آپ کا تعارف ہر رائل ہائی نس ڈیوک آف ونڈہ سے کرا دوں۔میں نے ان سے ذکر کیا کہ جب آپ لا ہور تشریف لائے تھے تو مجھے آپ سے شرف نیا نہ حاصل ہوا تھا۔کہنے لگے مجھے لاہور جانا خوب یاد ہے میں نے وہاں بہت اچھا وقت گزارا میں نے کہا مجھے یہ بھی فخر حاصل ہے کہ جو کتاب جماعت احمدیہ کی طرف سے بطور تحفہ آپ کی خدمت میں پیش کی گئی تھی اس کا ترجمہ اردود سے انگریزی میں میں نے کیا تھا۔انہوں نے بلانا مل اور بے ساختہ کہا وہ کتاب ابھیجا تک میرے پاس ہے۔جماعت احمدیہ لاہور کے امیر کے طور پر تقریر | خلافت ثانیہ کے دور کی ابتداء میں جب جماعت میں اختلاف ہوا میرے والد صاحب اس وقت جماعت سیالکوٹ کے پریذیڈنٹ تھے۔میں نے انگلستان کی واپسی پر سیالکوٹ کے قیام کے زمانے میں کچھ عرصہ جماعت کے محاسب کی خدمت سر انجام دی۔خلافت ثانیہ کے ابتدائی سالوں میں حضرت خلیفہ المسیح نے بعض جماعتوں میں امارت کا نظام جاری فرمایا۔خان قصاب مولوی فرنه ناد علی نعال صاحب الله امیر فیرونہ پور میں مقرر ہوئے۔تھوڑا عرصہ بعد حضرت خلیفہ المیے لاہور تشریف لائے اور ایمپریس روڈ پر احمدیہ ہوسٹل میں قیام فرمایا۔والد صاحب بھی قادیان سے تشریف لائے اور ماموں صاحب دانہ نزیر کا سے آئے میں ان دونوں بانہ ان مج محمد لطیف میں رہنا تھا در نونی بزرگ و مہیں قیام فرما تھے۔ایک شام جب دونوں احمدیہ پوسٹس حضور کی خدمت میں حاضری کیلئے۔۔