تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 210 of 736

تحدیث نعمت — Page 210

کرنے کی یہی صورت تھی کہ انتخابی ٹربیونل کے سامنے یہ سوال لایا جائے اور انتخاب کو باطل قرار دیئے جانے کی درخواست کی جائے۔درخواست کا علم ہونے پر پیشیخ محمد صادق صاحب ( برادر اصغر شیخ صادق حسن صاحب) میرے پاس لاہور تشریف لائے اور منت سماجت سے مجھے درخواست کی پیروی سے دست کش ہونے پر آمادہ کرنے کی سعی کرتے رہے۔میں نے ان سے تو کوئی وعدہ نہ کیا لیکن ان کی تشریف آوری کا ذکر اور انکی گفتگو کا خلاصت نفرت خلیفہ المیشم کی خدمت میں گذارش کر بھیجا۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ شیخ محمد صادقی صاحب کا یہ کہنا کہ یہ اشتہامہ بازی ان کے ایما سے نہیں ہوئی تو با بداہت غلط ہے اور یہ کہنا کہ یہ اشتہار بازی بعضی بعض لوگوں کی طرف سے ایک قسم کا مذاق تھا سنجیدہ باتوں سے تمسخر ہے جو بہت قابل افسوس ہے۔لیکن ان کی منت سماجت سے ظاہر ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی اس غلط حرکت کے نتیجے میں انتخاب باطل قرار دیا جائے گا۔اور انہیں پریشانی صرف اس وجہ سے ہے کہ جو چیز اتنی تگ و دو کے بعد حاصل کی ہے وہ ہاتھ سے نکل جائے گی۔ان کی طرف سے کسی قسم کا اظہار نہیں ہوا کہ ان کی یہ حرکت نادا جب بھی اور وہ اس پر نادم ہیں۔باس تہ جب وہ اپنے برادری اکر کی طرف سے اور لانہ ماں کے ارشاد کے ما تحت امرت سے چلکہ تمہارے پاس آئے تو یہ عمل ندامت کا اظہار ہے۔پھر وہ انگلستان میں تمہارے ساتھ رہے ہیں اور تمہارے درمیان دوستانہ تعلقات بھی رہے ہیں تمہاری طرف سے حسین سلوک مناسب ہے۔چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں میں نے درخواست کی مزید پیروی ترک کردی۔پریس آف ویزہ حال ڈیوک آف ونڈسر کی لاہور تشریف آوری پر شہزادہ دینی درحال ڈیوک آن بیس انی کی طرف کتاب تحفہ شہزادہ ولیز میں قبول اسلام کی دعوت تم میں ہندوستان کی سیاست کیلئے تشریف لائے اور اس دوران میں ان کا دور و دلاہورمیں بھی ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جماعت احمدیہ کی طرف سے شہزادہ میلہ کے لئے ایک نہایت قابل تقدیر تحفہ کتاب کی شکل میں تیار کیا جس میں اسلام کی حقانیت اور اس کے زندہ مذہب ہونے کے دلائل پیش کر کے اور عبد ایت کی موجودہ تعلیم اوراسلم کی تعلیم کا موانہ نہ کرتے ہوئے شہزادے کو قبول اسلام کی دعوت دی۔یہ کتاب حضور نے اردو میں تحریر کی اور اس کا مسودہ خاکسار کو انگریزی میں ترجمہ کرنے کے لئے ارسال فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ پانچ دن کے اندر ترجمہ تیارہ کر کے قادیان سے آو یہاں نظر ثانی کی جائے گی۔مجھے ان دنوں دن بھر مصروفیت رہتی تھی ترجمے کے لئے فقط شام کا وقت میسر آتا تھا۔جیسے جیسے میں ترجمہ کرنا ساتھ۔۔۔۔۔ساتھ انگریزی مسودہ ٹائپ کر دیا جاتا۔محض اللہ تعالے کے فضل ورحم سے بی اہم ذمہ داری حضور کی تقریرکردہ میٹا کے اندر پوری ہوگئی اور خاک از ترجمہ کہ حضور کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔دو دن میں نظر ثانی بھی کم ہوگئی اور مسودہ طباعت کے لئے تیار ہوگیا۔خاک رجب حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور نے فرمایا ایک بات نہیں ہنا یا دو نہ ہٹا کہ انگریزی عبارت کا اندانہ انجیل کے اندازہ پر ہونا چاہیے۔خاک رہنے گذارش کی کہ اصل تحریر کے اندازہ 1