تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 200 of 736

تحدیث نعمت — Page 200

پیشانی پر کبھی بل نہ آیا اور ان کی شفقت میں کوئی کمی نہ ہوئی۔خود عدالتی کام بہت کم لیتے تھے۔جب لیتے تو اس پر بہت محنت کرتے اور مجھے بھی ساتھ مل کر لیتے۔جس سے مجھے بہت کچھ سکھنے کا موقعہ مل جاتا مثلا نواب سر فتح علی خان صاحب قزلباش کی وفات پر ان کی وصیت کے جواز کے متعلق جو دعوئی سردار محمد علی خالی صاحب قزلباش نے دائر کیا اس میں مدعی کی طرف سے پچودھری صاحب وکیل تھے اور اس میں بطور مشیر کے مجھے شامل یہ کھتے تھے۔جب غالباً ء میں امرتسر میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور فریقین کے چالان ہوئے۔تو مسلمان ملزمان کے خلاف تو سب سے اہم چالان تھا اس کی سماعت مسٹر بورن نے کی۔اس مقدمہ میں بھی چودھری شہاب الدین صاحب نے میاں محمد شریف صاحب سود اگر چرم امرتبیر کو مشورہ دیا کہ مجھے صفائی کی طرف سے سینئر وکیل کیا جائے۔میاں محمد شریف صاحب نے صفائی کے اخراجات کا اکثر حصہ اپنی جیب سے ادا کیا۔مجھےکئی دن متوا تم پر روزہ اس سلسے میں امن نہ جانا پڑا۔میری پریکٹس بعض الله بڑ ھو رہی تھی شہداء سے میرے وقت کا اکثر حصہ عدالتی کام کی مصروفیتوں میں صرف ہونے لگا۔جس کی وجہ سے یں نے انڈین کینر کے دفترمیں کام کرنا بندکر دیا۔چودھری شہاب الدین صاحب اس بات پر رضامند ہوگئے کہ جو کام مجھے گھر پر بھیج دیا جائے وہ میں کر دیا کروں اس کام کے معاوضے کی ہوشرح مقرر ہوئی اس کے بین سے اوسطا مجھے اس کام سے اسقدر آمد ہو جاتی تبقدرمت اہرہ مجھے انڈین کیز سے شہر میں مل کر تا تھا اسی سال میں نے اپنی رہائش نسبت روڈ پر مجیٹھ ہاؤس میں بطور کرایہ دار منتقل کر لی۔یہ ذکر آپ کا ہے کہ مسٹر ایکو ستھے مجھے متواتہ ترغیب دیتے رہتے تھے کہ مجھے عدالتی کام کی طرف زیادہ تھے توجہ دینی چاہئیے۔ان کی رائے بھی میرے لئے تو صلہ افزائی کا موجب ہوئی۔میرے ماموں پچودھری عبداللہ نعاں صاحب دردانہ زید کا ، نے مجھے چیف کورٹ میں سب سے پہلا کیس بھیجا۔اس سے ایک طرف تو مجھے چیف کورٹ کے دفتری ضابطے کے ساتھ تعارف ہو گیا اور دوسرے یہ احساس ہونے لگا کہ عدالت عالیہ میں کام کا طریق میری طبیعت پر گراں نہ ہوگا۔چند سال بعد میرے ماموں صاحب نے ہی مجھے پہلا سیشن کیس کرنے کا موقعہ ہم پہنچایا تاء میں جب میں والد صاحب کے ساتھ کام کر رہا تھا مجھے ان کے ساتھ دو تین سیشن کے مقدمات کا ابتدائی تجربہ ہو چکا تھا۔لیکن اس وقت میں بطورت گر ے کام کر رہا تھا اور زمہ داری کا زیادہ تر بوجھے جب کہ کندھوں پر تھا۔جب مجھے تن تنہا اپنی ذمہ داری پر قتل کے مقدمے میں ملزمان کی صفائی کا بارہ اٹھانا پڑا تو مجھے اس ہوا کہ ذمہ داری کے لحاظ سے دیوانی مقدمات اور سیشن کے مقدمات میں کو سوی کا فرق ہے۔کسی انسان کے گلے میں پھانسی کا تہ کیا جانا یا ڈھیلا ہو جانا رونگٹے کھڑے کرنے والی متیناک حقیقت ہے۔ملزم قصور وار ہو یا بے قصویر اپنی جان ہتھیلی پر لئے ہوتا ہے۔لیکن عدالتی ڈرامے میں مرکز کی حیثیت صفائی کے وکیل کی ہوتی ہے ** "۔۔