تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 195 of 736

تحدیث نعمت — Page 195

۱۹۵ جناب مولانا صاحب۔وہ بھی دی ہی کافر ہے۔- اس پر سب جج صاحب نے فرمایا۔چلو اب سب کا فر ہو چکے قصہ تمام ہوا۔ہماری طرف سے سلسلہ احمدیہ کے کچھ علماء پیش ہوئے جنہوں نے شہادت دی کہ جماعت احمدیہ کے عقائد عین اسلام ہیں۔اور جموع میں جو اعتراضات پیش کئے گئے ان کے مناسب جواب دیئے اور کچھ غیرنہ جماعت مسلمان مغرزین پیش ہوئے جنہوں نے جماعت احمدیہ کے افراد کے متعلق شہادت دی کہ ان کا عمل عین ارکان اسلام کے مطابق ہے اور ہم انہیں مسلمان سمجھتے ہیں۔ان میں مرزا بدر الدین صاحب بیرسٹر ایٹ لاء اور سردار محمد اکبر خان صاحب پر سٹرایٹ لاء بھی شامل تھے۔جب ان گواہوں کی شہادت ہو چکی جنہیں ہماری طرف سے بذریعہ عدالت طلب کیا گیا تھا تو مج صاحب نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا شہادت ختم ہے ؟ میں نے کہا جناب ایک گواہ باقی ہے۔پوچھا وہ کون ہے ؟ میں نے کہا جناب مدعیہ کے مختار مولانا ثناء اللہ صاحب۔اس پر مولانا شاء اللہ صاحب نے فرمایا سمجھے تو طلب نہیں کیا گیا۔میں نے کہا آپ عدالت میں موجود ہیں طبی کی ضرورت نہیں۔مولانا صاحب نے فرمایا لیکن مجھے خرچ خوراک ملنا چاہیے۔میں نے کہا عدالت میں موجود ہونے کی صورت میں آپ خروج خوراک کا مطالبہ کرنے کے مچانہ تو نہیں لیکن مجھے آپ کے ساتھ بحث مقصود نہیں بیٹھے تین روپے حاضر نہیں قبول فرمائیے اور اقرار صالح کیجئے۔جب مولانا صاحب شہادت دینے کھڑے ہوئے تو میں نے ان کے اخبار اہلحدیث کا ایک پرچہ جیب سے نکالا اور اس میں مندرجہ ایک نوٹ کی طرف مولانا صاحب کو توجہ دلائی اور دریافت کیا کیا یہ آپ کا لکھا ہوا ہے؟ فرمایا میرا لکھا ہوا ہے۔میں نے پوچھا درست ہے ؟ فرمایا درست ہے۔میں نے وہ پرچہ بطور شہادت پیش کر دیا۔اس نوٹ کا مضمون یہ تھا۔ایک صاحب نے ہم سے سوال کیا ہے کہ آپ نے احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور سے ملکر ات عت اسلام کا ادارہ قائم کیا ہے۔اگر اس ادارے کی تبلیغی سرگرمیوں کے نتیجے میں کوئی غیرمسلم مرزائی ہو جائے تو کیا آپ کے نزدیک وہ مسلمان ہو گا ؟ - ہماری طرف سے اس سوال کا جواں یہ ہے کہ مسلمان ہونا دو لحاظ سے ہے ایک اخروی نجات کے لحاظ سے اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔اور فیصلہ اس کیے ہاتھ میں ہے۔ہم اس کے متعلق کچھ نہیں کہ سکتے۔دوسرے عرف عام کے لحاظ سے اس لحاظ سے ہم ہر کلمہ گو گومانی سمجھتے ہیں مرزائی بھی کلمہ گو ہیں اسلئے کوئی اعتراض پیدا نہیں ہوتا۔ڈاکٹر کھلونے مولانا سے کوئی سوال کرنا چاتا تو جج صاحب نے فرمایا مدعا علیہ کے وکیل نے صرف ایک دستاویز کی گواہ سے تصدیق کرائی ہے اس کے مضمون کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا اسلئے آپ اس دستاویز کے مضمون کے متعلق جرح کرنے کے مجاز نہیں۔اگر کچھ کہنا ہو تو محبت کے دوران میں کہہ لیں۔بحث کے لئے میں فلاں تاریخ مقریر کرتا ہوں۔اس پر اجلاس بر خاست ہو گیا۔اس دن کا اجلاس منوائی کئی گھنٹے جاری رہاتھا۔ج صاحب اور وکلاء سب تھکے ہوئے تھے۔عدالت کے کمرے