تحدیث نعمت — Page 189
1*9 } [Z] دونوں کو ایک نظر دیکھ کر ہی آمنہ کے حق میں رائے قائم کریں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مسٹر سی ایل آئندہ دوسرے لیکچرار مقرر ہوئے۔بعد میں مسٹر چپٹر جی کے ریٹائر ہونے پر پورے وقت کے پروفیسر ہوئے اور کنور سین صاحب کے استعفیٰ دینے پر کالج کے پرنسپل ہوئے۔ان ہر دو مواقع پر سر شادی لال صاحب نے مجھ سے فرمایا اگر تم چاہو تو تمہا۔تقرر ہو سکتا ہے۔میں نے عرض کیا مجھے خواہش نہیں۔پرنسپل کی جگہ خالی ہونے پر مجھ سے مشورہ کیا کہ میں ایک قابل آدمی در کار ہے تمہاری رائے میں کیا کرنا چاہیے۔میں نے کہا ایک تو آپ تنخواہ میں اضافہ کریں موجودہ۔۱۰۰۰ پر قابل آدمی ملنا مشکل ہے۔انہوں نے پوچھا تمہاری رائے میں کیا تنخواہ ہونی چاہیے۔میں نے کہا میری رائے میں کم از کم ۱۰۰۰۔۱۲۵۰ ہونی چاہیے۔کہا اگر تنخواہ اس کے مطابق ہو جائے تو تم کام کرنے کے لئے۔- - 1۔14 107110 تیار ہو گے۔میں نے شکر یہ ادا کر تے ہوئے کہا کہ اول تو میں اپنے آپ کو اس کام کے لئے موزوں خیال نہیں کرتا اور۔دوسرے میں اپنی پریکٹس جیسی بھی ہے چھوڑنا نہیں چاہتا۔میں نے تو لیکچرادری سے بھی استعفیٰ دیدیا ہے کیونکہ میرے پاس اب وقت نہیں۔میری رائے میں مسٹر سی ایل آنند قابل بھی ہیں اور موزوں بھی ہیں۔ان کا تقریرہ ہو جائے تو خوب ہو گا۔اکتو بر شاہ میں ڈیوس روڈ والی کو بھی کے کرائے ک میعاد ختم ہوگئی اور میں بانانہ ام محمد لطیف والے مکان میں واپس آگیا۔سید افضل علی صاحت بنے گئی بانہار کے قریب ایک مکان کرائے پر لے لیا تو سو ملی نواب محبوب سبحانی کے نام سے مشہور تھا۔جب تک میں ڈیوس روڈ پر رہ با چودھری شہاب الدین صاحب نے بازار مچ محمد لطیف والامتنان شیخ دین محمد صاحب مبر مائیکل لاء سٹر یونی کو رہائش کے لئے دیدیا تھا۔میری واپسی تک ٹربیونل کا کام ختم ہوکر مکان پھر خالی ہو چکا تھا۔یہ اللہ تعالے کا خاص میم تھا کہ اپنی اپنے فضل سے سید افضل علی صاحب اور خاک راپنے رویے ہیں اور عاجز بندوں کو اور ان کے متعلقین کو مارشل لاء سے متعلق پریشانیوں سے محفوظ رکھا۔فالحمد للہ۔لاء کالج میں ضابطہ فوجداری اور رومن لاء کا پڑھانا میرے سپرد ہوا۔ان دو مضامین کا آپس میں کوئی سجھوٹے نہیں تھا۔لیکن پرانے پر وفیسروں اور لیکچراروں نے جو مضامین اپنے لئے چین رکھے تھے ان سے توجہ کچھ بچا دہ مسٹر آنند کے اور میرے درمیان تقسیم کر دیا گیا۔ضابطہ فوجداری لیکچرار اور طلباء دونوں کے لئے آسان مضمون تھا رومن لا طلباء کے لئے ایک بالکل نیا مضمون تھا جس سے وہ بالکل ناآشنا تھے۔اس کے پڑھانے میں مجھے لندن یونیورسٹی کے پروفیسر میور سین صاحب کے طریق اور ان کے لیکچروں سے تیار کردہ خلاصے سے جو میرے پاس محفوظ تھا بہت مدد علی اور میں بہت سی نہ حمت سے بچ گیا۔جو پانچ سال (۲۴- ۱۹۱۹ء) میں لاء کالج میں لیکچرار رہا یہی دونوں مضامین میرے سپر د ر ہے۔