تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 190 of 736

تحدیث نعمت — Page 190

19۔شیخ اعجاز احمد شیخ اعجاز احمد صاحب فرزند اکبر شیخ عطاء محمد صاحب جو علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے برادر اکبر تھے اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے پاس کرنے کے بعد لاء کالج میں میں داخل ہوئے۔مجھے شیخ عطاء محمد صاحب سے نیا نہ حاصل تھا۔علامہ ممدوح کا تو میں شاگرد بھی نتھا اور اب ان کا جو تیر کم میشہ بھی تھا۔لیکن شیخ اعجانہ احمد صاحب سے اس وقت تک دور کی صعاب سلامت تھی۔پچودھری بشیر احمد صاحب کے ان سے گہرے دوستانہ مراسم تھے۔شیخ اعجانہ احمد صاحب جب ایل ایل بی کلاس میں تھے تو انہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ مضامین کی تیاری میں کبھی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور اسکی کوئی صورت نہیں۔اگر آپ کچھ وقت دے سکیں تو میں آپ کے پاس آکر مشکل مقامات حل کر لیا کروں۔میں نے کہا کہ کوئی خاص وقت مقرہ کہنا تو مشکل ہے آپ اپنی رہائش ہی میرے ہاں منتقل کر لیں۔جب بھی وقت میسر آجایا کرے گا میں آپ کی مدد کر دیا کروں گا۔چنانچہ ان کی رہائش کا انتظام دفتر کی عمارت کی غیری منزل میں کر دیا گیا جہاں ایک آرام دہ کرہ میر تھا۔مسٹرالی کو ستھ | چودھری شہاب الدین صاحب نے ایک روزہ مجھے بلایا۔ایک انٹیگلو انڈین صاحب ان کے پاس تشریف فرما تھے۔چودھری صاحب نے ان کا تعارف کرایا اور فرمایا انہیں اپنے ساتھ کام میں شامل کر لو اور مناسب آنہ مائش کے بعد مجھے بتانا کیسے کام کرتے ہیں اور کیا ان کے تعاون سے تمہارا بو جھ کچھ لکا ہو سکتا ہے۔ان صاحب کا نام مسٹر ایکو سجھ تھا۔چیف کورٹ سے ڈپٹی رجسٹرار کے عہدے سے ریٹا ئیہ ہوئے۔ریٹائر ہو نے پر جج صاحبان نے ان کے حسن خدمت کے صلے میں انہیں بچہ کیس کی اجازت مرحمت فرمائی چند سال پر کیس کی۔قابل اور محنتی تھے۔مزاج کے منکہ اور شریف طبیعت تھے میرے ساتھ کام کرنا شروع کیا تو خود ہی مجھے تنبیہ کی کہ میرے ہاتھ میں روپیہ نہ دنیا میں اس معاملے میں بہت کمزور ہوں۔اس کمزور ی ہی کا نتیجہ تھا کہ عبائی تنظیم سالویشن آرمی کی شکایت پہ ان کا پر کمیٹی کرنے کا لائیسنس ضبط ہو گیا تھا۔پمیشن پر گزارہ مشکل تھا۔چودھری شہاب الدین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے انہیں میرے سپرد کیا۔ان کی بیوی فوت ہو چکی تھیں دو بیٹے تھے بڑا بیٹا صحت عامہ کے ڈائر کٹڑ کے دفتر میں بطور اسسٹنٹ کام کرتا تھا۔چھوٹا ابھی سکول میں پڑھتا تھا۔مسراب کو نیند پنجابی خوب جانتے تھے لیکن لفظ اور لہجے سے ظاہر ہو جاتا تھا کہ کچھ یو ر مین ملونی ہے۔میں نے جو کام ان کے سپرد کیا انہوں نے بہت توجہ اور سرعت سے کیا اور مجھے اس میں اصلاح کی بہت کم ضرورت محسوس ہوئی۔بہت جلد میں چودھری صاحب کی خدمت میں گزارش کرنے کے قابل ہو گیا کہ مسٹرائیکو مجھے بہت توجہ سے کام کرتے ہیں۔ان کا کام نہایت مستلی بخش ہے۔وقت کے بہت پابند ہیں۔محنت سے کام کرنے کے عادی معلوم ہوتے ہیں۔مجھے ان کے کام کے j