تحدیث نعمت — Page 166
194 جو مجھ پر ڈالی گئی تھی ایک ٹوٹی ہوئی چھڑی کی بھی نہیں تھی۔اگر میں کسی حد تک اس ذمہ داری کو نبھا سکا تو یہ خالصتا اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی ذرہ تو انہی تھی۔حبس کی جاذب حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی دعائیں ہوئیں۔فالحمد لله - اجلاس بر خاست ہوا مظہر الحق صاحب نے میری طرف بڑھ کر کمال شفقت سے میرے ساتھ مصافحہ کیا اور دریافت فرمایا کب تک ٹھہر د گے ہیں نے عرض کیا میں آج رات ہما روانہ ہو جاؤں گا۔فرمایا کہاں ٹھہرے ہو ؟ میں نے کہا ڈاک بنگلے میں۔فرمایا وہ تو میرے مکان کے سامنے ہی ہے۔اگر اسٹیشن پر جانے سے پہلے چند منٹ کے لئے آسکو تو میرے لئے خوشی کا باعث ہو گا۔میں نے کہا ضرور حاضر ہوں گا۔شام کے کھانے کے بعد میں مظہر الحق صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔اس زمانے میں وہ سیاسیات ہند میں بڑی مستعدی سے حصہ لیتے تھے اور کانگریس کی قیادت میں ایک بار سوخ شخصیت تھے۔میں کسی لحاظ سے کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا وہ بڑی شفقت سے پیش آئے۔کہا تم نے بڑی قابلیت سے بحث کی۔واقعات ، قانون ، عقائد ، فقہی مسائل سب پر تمہیں عبور تھا اور ہر بات کو تم نے احسن طریقی سے پیش کیا ہم سب نے تمہاری بحث کو بڑے شوق اور دلچسپی سے سنا۔میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا یہ آپ کا حسن ظن ہے۔تیاری کیلئے تو مجھے کوئی نہ ہمت نہ اٹھانا پڑی۔سید وزارت حسین صاحب نے سب کچھ تیار کر رکھا تھا میرا توبہت کم حصہ تھا۔کہا پھر بھی تم نے ہر بات بڑی خوبی سے اور بڑے موتہ طریق پر پیش کی۔میں نے عرض کیا کہ ایک بات ضرور تھی شاید اس سے کچھ مدد ملی ہو۔اور وہ یہ کہ آپ سب صاحبان کے لئے تو یہ صرف ایک کیس تھا گو اہم ہی سہی لیکن مجھ نو آموز کے لئے یہ ایک اہم کیس بھی تھا اور میرے اپنے عقائد اور ایمان بھی زیر بحث تھے اور جماعت کے حقوق بھی خطرے میں تھے۔اس کے بعد کبھی میری ملاقات مظہر الحق صاحب سے نہیں ہوئی۔آخر عمرمیں پر سیٹیں ترک کر کے اور سیاسات سے دست کش ہو کہ انہوں نے گوشہ نشینی اور نہ ہر اختیار کر لئے تھے۔چودھری شمشاد علی خان صاحب جب انڈین سول سروری کے انتخاب میں کامیابی کے بعد صوبہ بہانہ میں تعینات ہوئے تو مظہر الحق صاحب کے ساتھ ان کے دوستانہ مراسم ہو گئے تھے۔ان کے ذریعے مجھے مظہر الحق صاحب کی طرف سے سلام پیام پہنچتا تہا تھا اور ان کی زندگی کی افتاد میں انقلابی تغیر کی تفصیل معلوم کر کے حیرت ہوئی تھی کہ سوٹ بوٹ انگریزی ٹوپی، سگرٹ سگار ، بنگلہ موٹر ، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر رویش بڑھا کر گیروے کپڑے پہن کر ایک آشرم میں دھونی رما کر بیٹھ گئے۔" i