تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 160 of 736

تحدیث نعمت — Page 160

14" فرمایا ذرا با ہر معلومیں تم سے بات کر نا چاہتا ہوں۔میں ان کے ساتھ ہو لیا وہ درانہ قد اور بائیب انسان تھے اور خوش پوش یور میں معلوم ہوتے تھے۔رنگ بہت گورا تھا۔کسی عام شخص سے بات کرتے تو یور میں بھجے میں اردو بولتے تھے اور تکلف سے بات کرتے معلوم ہوتے تھے۔میرے ساتھ انگریزی میں بات کرتے رہے۔انگریزی بہت سلیس بولتے تھے لہجے اور تلفظ میں کوئی مکلف نہیں تھا۔مجھے ساتھ لیکر سید فخر الدین صاحب کے کمرے میں تشریف لے گئے اور میرا ان سے تعارف کرایا۔سید صاب ایک متین طبع متبرک صورت بزرگ تھے اپنے کام میں مصروف رہے۔ہماری گفتگو میں انہوں نے کوئی در خل نہ دیا۔مظہر الحق صاحب نے مجھ سے فرمایا یہ مقدمہ بہت اہم ہے اور ہم سب تمہارہ کی بحث سننے کے ہایت مشتاق ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ تمہیں بحث کرنے کی اجازت ملنے میں کوئی روک پیدا نہیں ہونگی مجھے تو ہر صورت کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔لیکن ممکن ہے ہائی کورٹ کے متعلقہ قواعد کی تعبیر می شکل پیدا ہو۔میں نے خیال کیا کہ میں تمہیں تو جہ دلا دوں۔کیا تم نے متعلقہ قواعد کا مطالعہ کیا ہے ؟ میں نے کہا میں نے قواعد تو نہیں دیکھے لیکن رجبرار صاحب کے ساتھ مشورہ کیا تھا وہ فرماتے تھے کوئی وقت پیش نہیں آنی چاہئیے۔فرمایا بہتر ہو کہ تم خود متعلقہ قواعد ایک نظر دیکھ لو۔چنانچہ سر مظار الحق نے سید فخرالدین صاحب سے قواعد کی کتاب لیکر متعلقہ قاعدہ مجھے دکھایا۔اس میں درج تھا کہ کسی چارٹرڈ انڈین ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ کو محبت کی اجازت دی جا سکتی ہے بشر طیکہ میٹنہ ہائی کورٹ کا کوئی ایڈوکیٹ اس کے ساتھ نمائندگی میں شامل ہو۔مسٹر مظہر الحق نے فرمایا پنجاب چیف کورٹ ضابطہ دیوانی کے نشا کے مطابق ہائی کورٹ کا درجہ تو رکھتی ہے لیکن چارٹرڈ ہائی کورٹ نہیں تم لنڈن ہائی کوٹ کے بھی ایڈوکیٹ ہو۔لیکن وہ انڈین ہائی کورٹ نہیں۔اسلئے بظاہر تم پہ اس قاعدے کا اطلاق نہیں ہوتا۔میں تو کوئی مشکل پیدا نہیں کروں گا لیکن ممکن ہے بج صاحبان یہ سوال اٹھائیں تمہیں سورچ لینا چاہیے کہ ایسی صورت میں تمہارا کیا جواب ہونا چاہیے۔میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگر یہ سوال پیدا ہوا تو اول تو میں یہ درخواست کروں گا کہ بجے صاحبان میری محبث لطور A MICUS CU RIA E (مشیر عدالت سن لیں جس کا انہیں پورا اختیار ہے ورنہ میں اپنے موکلوں سے مختارہ نامہ خاص حاصل کر لوں گا۔بہر صورت میں آپ کا منون ہوں کہ آپ نے بر وقت مجھے متنبہ کر دیا۔عدالت کا منتفرق کا ایک بجے ختم ہوا اور اجلاس دو بجے تک ملتوی ہوگی۔اجلاس کے دوبارہ شروع ہونے پر ہمالہ میں بلایا گیا۔چیف جسٹس صاحب نے فرمایا ہماری فہرست پر تو اس کیس کا پہلا نمبر نہیں۔پیش کار صاحب نے عرض کیا کہ تو جبرانہ صاحب نے یہ کہیں اول نمبر پہ اسلئے رکھا ہے کہ ایک • 1