تحدیث نعمت — Page 156
104 تیاری میں کوئی دخل نہ دیتے۔میری طبیعت ان کے اوصاف حمیدہ سے بہت متاثر ہوئی۔تقسیم ملک تک جماعت کے جلسے سالانہ پر ان سے ضرور ملاقات ہوتی۔تقسیم کے بعد ملاقات کا موقعہ تو نہیں ہوا لیکن ان کی نہایت خوشگوار محبت کی یا دانیک میرے دل میں تانہہ ہے۔ان کی خیریت کی • اطلاع ملتی رہتی ہے۔اور جب موقعہ مسیر آتا ہے میں اپنا نیا نہ مندانہ سلام ان کی خدمت میں بھجوادیتیا ہوں۔حکیم خلیل احمد صاحب سے ملاقات کے زیادہ مواقع میسر آتے رہے ہیں۔یہ بند لوگ بھی بڑی خوبیوں کے مالک تھے اور میرے ساتھ بڑی شفقت سے پیش آتے تھے۔نہایت لبشاش طبع تھے۔ان کی زندگی با تی ان نوں کی طرح یقینا آکام ان نی سے خالی نہیں رہی ہوگی۔لیکن میں نے انہیں کبھی طول خاطر نہیں دیکھا۔افسوس کہ دسمبر تک میں رحلت فرما گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔تیاری مکمل ہو جانے کے بعد تم بانکی پور، مراد پورہ اور دریا کی سیر کو گئے مشہور کتب خانہ خدا بخش دیکھا۔لب دریا ما لا احبه در بھنگہ کا محل دیکھا۔سول سٹیشن میں پبلک عمارات اور روسا اور وکلاء کے عالیشان مکانات دیکھ کر طبیعت محفوظ ہو ئی۔سوموالہ کی صبح کو ہائی کورٹ گئے اور یہ جبڑا نہ صاحب سے ملاقات کی۔تاریخ سماعت کے متعلق تو انہوں نے دہی فرمایا تو خورشید حسنین صاحب سے معلوم ہو چکا تھا۔لیکن میری مشکل کا اندازہ کر کے کہا اس ہفتے کے دوران میں تو سماعت کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی لیکن آئندہ ہفتے کی فہرست میں اس کیس کو پہلے خبر پر رکھ دیا جائے گا متفرق کام کے بعد اسی دن اسکی سماعت شروع ہو سکے گی۔مجھے پیروی کی اجازت ملنے کے متعلق کہا تم برسٹر ہو اور پنجاب چیف کورٹ کے ایڈوکیٹ ہو اور خورشید حسین صاحب تمہارے ساتھ شامل ہیں۔اجازت ملنے میں کوئی وقت نہیں ہونی چاہیے۔تحریری درخواست کی ضرورت نہیں پیش ہونے پر ان امورہ کا ذکر کر کے اجازت طلب کرنا اسی وقت اعجازت مل جائے گی۔بنارس اور الہ آباد کی سیر | اب کچھ دن کی فراغت تھی یہ عرصہ اتنا نہ تھا کہ میں لاہور تا کہ وہاں ایک دو دن ٹھہر سکتا۔سفر اتنا لمبا تھا کہ بہت سا وقت تو سفر میں گذر جاتا اور کوفت کے مقابلے میں کام بہت کم ہو سکتا۔دوسری طرف پٹنہ میں بیکا نہ بیٹھے رہنا بھی طبیعت پر بوجھ تھا۔سید نعم الله شاہ صاحب نے تجویز کیا کہ تین چار دن میں بنارس اور الہ آباد دیکھ آئیں ریلوے ٹائم ٹیل دیکھنے کے بعد میں نے لالہ پدم سین صاحب کو جو گورنمنٹ کالج لاہور سے اقتصادیات میں ایم اے کرنے کے بعد الہ آباد یونیورسٹی میں ریڈر ہو گئے تھے اطلاع کر دی کہ ہم دون کیلئے الہ آباد آئیں گے آپ بھاگے قیام کا بندو سبت کر دیں۔