تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 155 of 736

تحدیث نعمت — Page 155

۱۵۵ ہیں ان کی سماعت آئندہ ہفتے کے دوران میں ختم نہ ہوسکے گی اسلئے ہمارے کیس کی سماعت تو شاید ابھی دو ہفتے تک نہ ہو سکے گی۔مجھے یہ سنکر پریشانی ہوئی کہ میں ڈیڑھ دو ہفتے پینے میں بیٹھا کیا کروں گا۔خورشید حسین صاحب نے فرمایا تم سوموار کے دن ر جبر ا ر صاحب سے مل لینا شاید وہ کوئی معمل بخونید کر سکیں۔میں نے دریافت کیا مجھے پر ردی کیلئے تحریری درخواست پیش کرنا ہوگی یا اجلاس میں زبانی گذارش کرنا کافی ہوگا۔اس کے متعلق بھی فرمایا کہ سربراہ صاحب سے دریافت کر لینا مناسب ہو گا۔اتوار کے دن کا اکثر حصہ تیاری میں گذارا لیکن سب مراحل اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرے لئے سید وزارت حسین صاحب کی سابقہ محنت اور توجہ کے نتیجے میں آسان ہو گئے اور میں نے عصر کے وقت تک اپنی تیاری مکمل کرلی۔سید وزارت حسین صاحب نهایت متین اور سکبھی ہوئی طبیعت کے مالک ہیں۔یہ فیصلہ سایہی جماعت کے لئے ہی اہم تھا لیکن جماعت ہائے صوبہ بہار کے لئے اور خصوصاً مونگھی اور بھا گلپونہ کی جماعتوں کے لئے تو بہت ہی اہم اور نانی ک تھا۔جب تحکیم خلیل احمد صاحب اور سید و ندارت حسین صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح ثانی کی خدمت میں استصوابی عریضیہ ارسال کیا تھا تو یہ دونوں بزرگ تو شاید میرے نام سے بھی واقف نہ ہوں گے انہیں توقع ہو گی کہ حضور ان کے عریضے کے جواب میں الہ آبادیا یا کلکتہ یا لاہور کے کسی نامور وکیل کے تقریر کا مشورہ دیں گے۔لیکن مرکز سے اطلاع بھیجی گئی کہ حضور نے خاک رہ کا انتخاب فرمایا ہے۔اور خاک رحضورہ کے ارشاد کے ماتحت جلد یہ حاضر ہو جائے گا۔علم لیاقت اور تجربہ کا تو کیا ذکر میری تو عمر بھی ابھی تئیس سال ہی تھی۔فریتی مخالف کے وکلاء میں سے سب سے جو نیر سے بھی میں کہیں جو نیٹر تھا اور سب سے کم عمر سے کہیں کم عمر تھا تجربہ کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔میرا چیف کورٹ یا ہائی کورٹ کا تجربہ صفر تھا۔لیکن یہ بزرگ اور جماعت کے دیگر احباب خوب سمجھتے تھے کہ ظاہری اسباب تو مشخص ایک آلہ میں نتیجہ تو اللہ تعالیٰ کے فضل ورحم سے ہی پیدا ہوتا ہے۔رعایت اسباب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ضروری ہے لیکن سہا را خدا تعالیٰ کے فضل پر چاہیئے۔میرے پٹنہ پہنچنے پر یہ بزرگ اور دیگر کتاب بڑی بشاشت اور خندہ پیشانی سے ملے اور سید وزارت حسین صاحب تو سارا وقت پورے اعتماد کے ساتھ نہ صرف تعاون کرتے رہے بلکہ اپنے تو کل اور تقویٰ کے مقام کے لحاظ سے میری ہمت افزائی کا موجب بنے رہے۔مقدمے کی تیاری کے متعلق بھی انہوں نے مجھے پر پورے اعتماد کا ثبوت دیا۔جو کچھ میں دریافت کرتا نہایت خوش اسلوبی سے واضح فرما دیتے لیکن خود میری