تحدیث نعمت — Page 134
۱۳ گالیاں نال ایہدے کن گندے مہندے نہیں۔ہوں۔ہاں میں مسائی تھے ناں میرا میسان الحق چنگا شریف ہے۔(ہت تیرے کی۔نام احسان الحق ہے اور ہے عیسائی بیٹا شریف بنا پھرتا۔میری گالیوں سے اس کے کان گندے ہوتے ہیں۔ہوں ! ہوں میں عیسائی پر نام ہے میرا احسان کو اچھا شر یف ہے۔میں پریشان ہو ر ہا تھا کہ کہیں آرک ڈیکین صاحب کو بچو ان کی پیڈ بڑا اہٹ بیٹن لیں لیکن تانگے کے شور میں غالباً آوانہ پیچھے سنائی نہیں دیتی تھی۔کو سیچوان صاحب کبھی خاموش ہو جائے کبھی میرے ساتھ کوئی بات کر لیتے لیکن دفعتہ پھر بڑبڑانے لگ جاتے ہوں ! ناں جہان الحق ہاں 3" میں سہائی۔بھارا شریف کار ہوں ! نام احسان الحق۔ہوں میں عیسائی۔بیٹا شریف ) نو بجے کے قریب ہم شاہ پور پہنچے۔یہاں سے ایک سڑک تو سید ھی پالم پور بجاتی ہے اور دوسری بائیں طرف دھرم سالہ جاتی ہے۔یہ تانگہ تو پالم پور جانیوالا تھا اور یہاں سے دوسرا تا نگہ دھرم جانے کیلئے تیار تھا۔میں نے تانگہ بدل لیا اور مختصر سے ناشتے کے بعد یہ دوسرا تانگہ دھر مسالہ کی طرف روانہ ہو گیا۔آرک دیکین صاحب نے بھی ناشتہ کیا اور پہلے تانگے میں پالم پور تشریف لے گئے۔مجھے ان کے متعلق کچھ پریشانی رہی۔کوچوان صاحب کا بیڑی اتنا تو کچھ ایسے نکمہ کی بات نہیں تھی لیکن ایک حرکت اس نے ایسی کی تھی جس سے مجھے اندیشہ تھا کہ پال پور کے راستہ میں معزز پادری صاحب کو کوئی تکلیف نہ پہنچائے۔ہوا یہ کہ ایک مقام پر پانی کا چشمہ مہاڑ کی جانب سے بہتا تھا اور سڑک کے کنارے ایک حوض میں اس کا پانی جمع ہوتا تھا۔پانی بہت صاف ، ٹھنڈا اور شیریں تھا۔کو سیوان نے تانگہ ٹھہرایا اور پادری صاحب سے کہا کہ اگر چاہیں تو پانی پی لیں۔وہ شوق سے اترے اور سیر ہوکہ پانی پیا۔تانگے کی طرف واپس آئے لیکن ابھی سوارہ نہ ہونے پائے تھے کہ کو پچر ان صاحب نے تانگہ چلا دیا۔مجھے بہت پریشانی ہوئی اور میں نے انہیں سمجھایا کہ انہیں ایک معزنہ انسان کے ساتھ الیسا یہ تاؤ نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے تانگہ روک لیا اور یوں بھی چند قدم پر روکتے ہیں کیونکہ یہ تو انکی نیت ہو نہیں سکتی تھی کہ آرک ڈیکن صاحب کو سٹرک پر چھوڑ کر پہلے جاتے۔لیکن اس قسم کا مذاق بھی نا واجب تھا۔اس کے بعد اس کی بیڑیا ہٹ بھی کسی حد تک رک گئی شاید اپنے غصہ کے اس عملی اظہار کے بعد ان کی طبیعت صاف ہو گئی ہو بلکہ ندامت کا کچھ احساس پیدا ہو گیا ہو۔▲۔لویه د هر مالہ پہنچنے پر چودھری عالم دین صاحب، میاں حکیم الدین اور ڈاکٹر لال دین صاحب مل گئے۔اور ہم سب اکٹھے پر دھر مسالہ پہلے گئے۔ان دنوں لوئر د ھر مسالہ میں تو کچھ آبادی تھی اور چیند