تحدیث نعمت — Page 133
جلد ضبط میں لے آ ب لے آتا۔ایسے موقعہ پر کو چو ان اپنے مزاج کے مطابق مظاہرہ کرتا۔کوئی گھوڑے پیچکانہ تا اور پیار کے لفظ استعمال کرتا۔کوئی تیزی کرتا اور گھوڑے کو گالی دیتا۔ہمارے یہ کو جوان کچھ تیز طبیعت کے تھے۔گالی دشنام ان کے منہ سے ایسے نکلتے تھے جیسے پھل پھڑی سے شرارے مجھے یہ احساس ہو رہا تھا کہ ان کا یہ اسلوب آرک ڈیکن صاحب کی طبعیت پر گراں ہو رہا ہے۔ایک چوکی پر گھوڑے بدلنے کے بعد تانگہ روانہ ہوا تو دائیں ہاتھ کا گھوڑر شرارت پر اتر آیا۔کو حیران نے گالی دی اور ایک سیا یک رسید کی گھوڑے نے پچھلے پاؤں اٹھا کر دوستی لگائی۔کوچوان صاحب غصے میں آگئے گا لیوں اور چابک دونوں کی رفتار تیز ہوگئی۔گھوڑے کی رات میں کمی نہ آئی بلکہ اور بڑ ھوگئیں تو جوان نے دو تین چابک ندور سے جلدی جلدی میں لگائے۔گھوڑے کی غیرت بھی تجوش میں آئی۔اب کی بارہ اس کی پچھلی ٹانگیں خاصی بلند ہورٹی اور نیچے آنے میں بائیں ٹانگ سجائے نہ مین پر آکر نے کے درمیانی پوٹی تیر یہ آرہی اور گھوڑے کا سہالہ باقی تین ٹانگوں پردہ گیا۔اب کو چوان صاحب تانگہ روکنے پر مجبور ہو گئے اور تانگہ سے اتم کہ گھوڑے کی ٹانگ آزاد کرانے میں مصروف ہوئے۔کوئی سائیں بھی قریب نہ تھا جو ہاتھ بٹاتا۔گھوڑے کی ٹانگ کو نقصان پہنچتا تو ان پر حرف آتا - تانگے سے اتر کر معروف پر کار ہونے سے ان کے وقالہ میں بھی فرق آیا۔ان کے غصے کا پایہ اور بھی چڑھ گیا اور گالیوں کی بوچھا کیفیت اور کیمیت میں اور بھی بڑھ گئی۔گھوڑے کی شرارت کی وجہ سے تانگے کی رفتار میں تو کمی نہ آتی تھی لیکن اس کے توازن میں ضرور فرق آگیا تھا۔آرک ڈیکین صاحب کو پھیلی نشست سے سامنے کا ڈرامہ تو نظر نہیں آتا تھا لیکن کو پروان کی درشت کلامی اور تانگے کے چکولوں کی وجہ سے وہ ہزار ہو رہے تھے اور جب گھوڑے اور اس کے خاندان کے خلاف کو پوران کی دشنام طرازی معمول سے بڑھ گئی تو آکر رکین صاحب نے نہایت سنجیدہ لہجے اور کچھ منانت آوانہ میں احتجاج کیا۔ارے بھائی وہ تو تھا نور ہے تم کیوں گالیوں سے اپنی زبان گندی کرتے ہو۔شریفوں کے کان گندے کرتے ہو اس سے کیا فائدہ ؟ اتنے میں کو جو ان صاحب گھوڑے کی ٹانگ آزاد کروا کے اپنی نشست پر واپس آگئے تھے۔بگل بجایا اور تانگہانی رفتار پر پر روانہ ہوگیا۔گھوڑے کی شرارت بھی کچھ ضبط میں آگئی۔کوچوان صاحب کا مزاج اعتدال پر آیا تو مجھ سے پوچھا اسیہ کچھے کون لئے یہ مجھے کون بیٹھا ہے ، میں نے کہا پادری صاحب ہیں۔پوچھا ޕ ایہدا کیہناں ایں ؟ " ( اس کا کیا نام ہے ) میں نے کہا احسان الحق - پوچھا کہانی ہے ؟ " کیا عیسائی ہے ؟ میں نے کہا ہاں عیسائی ہیں۔اور گرجے کے بڑے افسر ہیں۔کوچوان نے بڑانا شروع کیا۔لیا جاندی اے۔ناں جہان الحق تھے ہے ہائی ! بھارا شریف بنیا پھردا اے میریاں۔