تحدیث نعمت — Page 113
لندن سے روانگی استخر بعد انتظار روانگی کا دن آیا جہاز نے لنگر اٹھایا۔اکبر متوسط میں ایک دریا نہ اندازہ ہوا کہ دشمن کی زیر آب جنگی کشتیوں نے ہمارے جہاز متارپیڈو چھوڑا لیکن فضل اللہ خطا گیا۔جیرہ عرب میں بھی ایسا ہی تجربہ ہوا ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے یکم نومبر کو بیرت بیٹی پہنچ گئے۔بحیرہ قلزم میں جوں جوں جہاز جدہ کے قریب ہوتا گیا دل میں حسرت بڑھتی گی کہ کاش کعبتہ اللہ کی زیارت اور ہی کی سعادت نصیب ہو جاتی۔دعاؤں کے ذریعے جو التجائیں ہو سکیں حضرت احدیث کے حضور گذاری جاتی رہیں۔بمبئی پہنچنے کا دن عید کا دن تھا۔ہم اگر چہ ابھی گھر نہیں پہنچے تھے لیکن ساحل وطن پڑا ترسے تھے اور یہ بھی بہت خوشی اور اطمینان کا موجب تھا۔فالحمد للہ علئے نہالک۔وطن میں واپسی | بیٹی سے ہم اسی شام بی بی ایڈ سی۔آئی ریلوے کی نئی نئی جاری کردہ نامہ دردون ایکسپریس پہ جو بعد میں رفرنیٹر میل کہلائی) لاہور جانے کے لئے کولا با اسٹیشن پر گئے ہو ان دلون کمیٹی میں ریگو کا بڑا اسٹیشن تھا۔دوسرے درجے کے ٹکٹ خریدے جس علی نے ہمار ے سامان کی ذمہ داری کی تھی اس نے وزن کرنیوالے کانٹے کے قریب پہنچ کر دی نہ ان میں مجھے کہا صاحب آپ کا سامان کم تلوا دوں ؟ مجھے کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ ہمارا سامان کم کیوں تولا جائے۔میں نے پوچھا کیوں ؟ کہا صاحب کم وزن پیر کا یہ کہ اور آپ مجھے کچھ انعام دیں گے۔میں نے جھنجھلا کر کہا ہر گنہ نہیں۔مجھے سخت صدمہ ہوا کہ وطن پہنچتے ہی میلا تجربہ بد دیانتی کی نہ غیب کا ہوا۔ہم تین سال ایسے ملک میں گزارہ کر آئے تھے جہاں ان دنوں کسی کو ایک کم سن بچے کو بھی مہینے کا خیال تک نہیں ہوتا تھا۔تیسرے دن صبح لاہور پہنچے۔مسٹر محمد حسن صاحب کے بہنوئی عبد الحمید صاحب ریلوے پولیس میں انسپکٹر تھے اور ان کا دفتر بھی پلیٹ فارم نمبر۲ پر ہی تھا۔جہاں ہماری گاڑی کھڑی ہوئی۔وہ ہمیں پہنچتے ہی ملے۔ان کے ساتھ مکر می ڈاکٹر عباد اللہ صاحب بھی تھے۔مسٹر محمد حسن تو گاڑی بدل کر امرتسنہ جانیوالے تھے اور میرا ارادہ بھی اسی گاڑی سے قادیان بجائی کے لئے بالے جانے کا تھا۔میں نے ڈاکٹر عباداللہ صاحب سے کہا کہ قادیان پلیں۔انہوں نے فرمایا میں امرتہ سے ایک ضروری کام کے لئے لاہور آیا ہوں۔آج میں وہ کام کر لوں تو کل اکٹھے قادیان چلیں گے۔میں ان کی یہ فافت کی خواہش میں رضامند ہو گیا۔اسٹیشن سے تانگہ کہا یہ کر کے گورنمنٹ کالج کے برانچ مہوٹل واقعہ شیش محل گیا۔چودھری شمشاد علی خانصاحب کا کمرہ دریافت کر کے ان کے پاس پہنچا۔وہ مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے۔انہیں میرے آنے کے متعلق کوئی اطلاع نہیں تھی۔دن بھر ان کے ساتھ گزارہ کر دوسری صبح ڈاکٹر عباد اللہ صاحب کے ساتھ قادیان گیا۔لاہور میں انہوں نے دن کا اکثر حصہ میرے ساتھ ہی گزارا تھا۔میں نے دریافت کیا آپ جس کام کے لئے لاہور تشریف لائے تھے وہ ہو گیا ؟ کہنے لگے