تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 112 of 736

تحدیث نعمت — Page 112

ماں باپ کی شفقت کا صحیح اندازہ کون کر سکتا ہے۔ماں کی مامتا تو ایک بحر نا پیدا کنار ہوتا ہے۔وطن سے دور ایک بالکل اجنبی ماحول میں میرے لئے یہ امر بہت ہی تسکین و اطمینان کا موجب تھا کہ میرے والدین صبح و شام ، دن رات آستانہ الہی پر میرے لئے تضرع اور خشوع سے دست بدعا ہیں۔اللہ تعال نے اپنے کمال فضل و رحم سے انکی عاجزانہ التجاؤں کو شرف قبولیت سے نوازا اور ہر خطہ اور ہر حالت میں حفاظت فرمائی۔بعض دفعہ ایسے حالات میں اور ایسے طور پر اس کی ذرہ نوانہ یوں کی کیفیت ظہور میں آتی که دل تسبیح اور حمد سے بھر جاتا اور بے اختیار سجدت لك روحی و جنانی کا گیت گانے لگ جاتا کئی بار ایسا ہوا کہ میں لندن کے پر شور بازاروں میں سے بلند آواز سے قبیح اور حمداد قرآن کریم کی وعاوں کو وجدان کیفیت میں پڑھتا ہوا تیزی سے گنتا چلا جاتا اورپھر بھی دلکوتی نہ ہوتی کا لال کے شمال اوای انت مانیوں کا کچھ بھی کردا ہو سکتا ہے میں نے قیام انگلستان کے دوران یہ التزام رکھا کہ والد صاحب کی خدمت میں عریضہ ارسال کرنے میں کبھی ناغہ نہ ہو۔جب جنگ شروع ہونے پر ڈاک ریل کے ذریعہ مار سلیز تک جانا بند ہوگئی تو میرا عریضہ والد صاحب کی خدمت میں پہنچنے میں ایک ہفتہ کی تاثیر موگئی۔والدہ صاحبہ کو معلوم ہوا کہ اس ہفتے کی ڈاک ایک ہفتہ بعد ملے گی تو غش کھا گئیں۔جن دنوں میں لندن سے روانہ ہونے والا تھا نبریں آنا شروع ہوئیں کہ ایک جر من آمد وہ جس کا نام ایڈن تھا بحیرہ اب میں ہندوستان جانیوالے برطانوی جہازوں کو اپنے تارپیڈوں کا نشانہ بنا رہا ہے اور بہت سے جہانہ اس نے غرق کر دیئے ہیں۔بحیرہ متوسط بھی خطرے سے خالی نہیں تھا۔مجھے خیال ہوا کہ اگر میں نے قبل از وقت والد صاحب کی خدمت میں لکھا کہ میں فلاں تا ریخ فلاں جہا نہ پہ لندن سے روانہ ہوں گا تو میرے وطن پہنچنے تک میرے والدین کا وقت بہت پریشانی میں گزرے گا۔اس خیال سے ہمیں نے اپنی روانگی کے پروگرام کے متعلق انکی خدمت میں کوئی اطلاع نزدی۔البتہ ۱۸ اکتوبر کو خط لکھا کہ میرا امتحان ختم ہو گیا ہے۔پہچے بفضل اللہ اچھے ہو گئے ہیں اور اب میں تبلد یہاں سے روانہ ہونیوالا ہوں۔مجھے معلوم تھا کہ یہ خط بھی میرے ساتھ ہی جہانہ غریبیا، پھر جائے گا اگر یہ خط ان کی خدمت میں پہنچ گیا تو میں بھی فضل اللہ پہنچ جاؤں گا۔اور انہیں لمبا عرصہ میرا انتظار نہ کرنا پڑے گا۔اپنے ماموں صاحب کی خدمت میں میں نے وضاحت سے لکھ دیا کہ جس جہانہ پر یہ خط آ رہا ہے اس پر میں بھی سفر کروں گا اور جب نیہ آپ کی خدمت میں پہنچے گا میں بھی فضل اللہ گھر پہنچ چکا ہوں گا۔ان دنوں ان کا ڈاکخانہ ستراہ تھا جودانہ زید کا سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے۔وہاں سے دانہ نہ یاد کا کی ڈاک ان دونوں ہفتے میں ایک یا دو بار تقسیم ہوتی تھی۔میرا اندازه متفا کر میرا خط انہیں میرے سیالکوٹ پہنچنے کے بعد ملے گا۔