تحدیث نعمت — Page 104
لیکن با وجود اپنی نو عمری کے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعادی کو فضل اللہ خوب سمجھتہ تھا۔اور یہ بات کسی صورت میری سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ ایک دینی اور روحانی جماعت کی قیادت ایک انجمن کر سکتی ہے۔پھر اس مسئلے کو حضرت خلیفہ المسیح اول کی لاہور کی تقریروں نے بھی خوب واضح کر دیا ہوا تھا۔اور خواجہ کمال الدین صاحب کی تلقین نے میرے موقف کو بجائے کسی بھی لحاظ سے کمزورہ کرنے کے اور مضبوط کر دیا تھا۔چنانچہ جولائی سالہ میں ایک خط میں میں نے اپنے خیالات کا اظہار اپنے ماموں صاحب کچودھری عبداللہ خالصا حب سے کر دیا تھا۔اختلاف کے بارے میں والد صاحت نے مجھے لکھا کہ یہ ایمان کا معاملہ ہے میں اس میں نہیں کوئی حکم نہیں دیتا صرف یہ مشورہ دیتا ہوں کہ فیصلہ کرنے میں محبت سے کام نہ لینا۔اور جو فیصلہ بھی کرو غورو فکر اور دعاؤں کے بعد کرتا۔والدہ صاحب نے لکھوایا کہ جماعت میں بہت خار پیدا ہو گیا ہے۔میں نے اپنی بیعت اور تمہارے بہن بھائیوں کی بیعت کا خط لکھوا دیا ہے۔تم بھی اس خط کے ملنے پر فوراً بیعت کا خط لکھ دو۔چنانچہ میں نے اپنی سبعیت کا خط اور والد صاحب اور والدہ صاحبہ کے خطوں کے جواب تو فوراً لکھ کر ڈاک میں ڈال دیئے اور پھر فراغت سے بیٹھ کر ڈاک کا تفصیلی مطالعہ شروع کر دیا۔اس مطالعہ کے بعد مجھے اطمینان ہو گیا کہ جو فیصلہ میں نے کیا وہ درست ہے اور خلافت کے ساتھ وانستنگی لازم ہے۔جب چودھری فتح محمد سیال صاحب سے ملاقات ہوئی تو ان سے کچھ تفاصیل۔اور یہ بھی معلوم ہوا کہ انہوں نے فوراً اپنی بیعت کا خط ارسال کر دیا تھا۔اور چونکہ میرے خیالات سے خوب واقف تھے اس لئے میرے متعلق لکھ دیا تھا کہ وہ سفر سپہ گیا ہوا ہے بھی معلوم ہو لندن واپس آنے پر بعیت کا خط لکھ دیگا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔ی کے موسم گرما کا وہ دن مجھے خوب یاد ہے جب آسٹریا کے آر ڈیوک فرانہ فرڈینینڈ اور انکی بیگم کے سیرا جو میں قتل کئے جانے کی خبر اخباروں میں شائع ہوئی۔نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔لیکن اعتبار بیچنے والے لڑکے کی صدا ابھی تک میرے کانوں میں ویسے ہی محفوظ ہے۔گویا میں نے صدا ابھی ابھی سنی ہے۔وہ چین پہنچ کر کہ رہا تھا۔آج ڈیوک فرانز فرڈینینڈ قتل کر دیا گیا۔اس وقت وہ واقعہ ہولناک تو معلوم ہوا لیکن اس کے تباہ کن نتائج کا کوئی تصویر فوری طور یہ دو ملین میں نہ آیا۔کچھ دنوں کے بعد مستر فائزن نے ۱۷۵ دی گرود کی ر ہائش ترک کردی اور ایک اور مکان کنسنگٹن گار ڈنر سکوئر میں چلی گئیں۔میں اور دیگر مہمان تجبر ان کے ہاں مقیم تھے ان کے ساتھ