تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 96 of 736

تحدیث نعمت — Page 96

۹۶ کوئی امکان نظر نہیں آتا تھا۔خواجہ صاحب سے انگریزی لباس کیلئے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا آیکو کہیں باسر تو جانا نہیں سلئے سوٹ وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں۔کھانے کے متعلق تو جہ دلائی تو فرمایا شیخ نور احمد صاحب با وجود پیرانہ سالی اور ضعف کے میں خوراک کو کافی سمجھتے ہیں وہ آپ کے لئے بھی کافی ہونی چاہیے۔میں اپنے لاہور کے طالب علمی کے زمانے سے چودھری صاحب کو اچھی طرح جانتا تھا اور ان کا بہت احترام کرتا تھا۔میں جانتا تھا کہ کالج کے زمانے میں بھی دو اچھی غذا کے عادی تھے۔کمپین کے در وقت کے کھانے کے علاوہ دودھ اور پھل وغیرہ باقاعدہ استعمال کرتے تھے۔ان کی طبیعت میں شوقینی نہیں تھی۔بہت سادہ مزاج تھے لیکن زمیندار طبقہ میں سے تھے۔اور ہاتھ کھلا تھا۔سے بڑھ کر ان کیلئے یہ امر پریشانی کا موجب تھاکہ خواجہ صاحب انہیں تبلیغی کام میں شامل نہیں کرتے تھے بلکہ احتیاط کرتے تھے کہ انہیں اس میں کوئی دخل نہ ہو۔خواجہ صاحب مغربی ممالک میں حضرت علیه مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر کو سم قاتل سمجھتے تھے۔اور چودھری صاحب کے نزدیک بغیر حضو صلہ اسلام اور حضور علیہ سلام کی تعلیم کو پیش کرنے کے اور کوئی ذریعہ تبلیغ اسلام کا نہیں تھا۔ان حالات میں دونوں اصحاب کے درمیان تعاون اور استحاد عمل کی بہت کم گنجائش تھی۔خواجہ صاب نے دو کنگ میں مشن تو قائم کیا۔لیکن اس کے کرتا دھرتا وہ خودی تھے۔چودھری صاحب کی معروضات پر وہ کوئی توجہ نہیں فرماتے تھے۔اور چودھری صاحب حضرت خلیفہ المسیح اول کی خدمت میں یہ حالات گزارش کر کے حضور کی پریشانی کا موجب ہونے سے گھبراتے تھے۔ان حالات میں میں نے ان کی خدمت میں گذارش کی کہ وہ دو تین ہفتے لندن میں میرے پاس گزاریں۔وہ رضامند ہو گئے اور خواجہ صیب سے اجازت لیکر میرے پاس آگئے۔میں نے ان کے لئے کمرے اور کھانے کا انتظام کردیا۔اور مناسب پارچات بنوانے کا بھی۔کھانا مسنرمی کے ہاں بہت عمدہ ملتا تھا پھل وغیرہ بھی میسر تھے۔مکان کے باغ میں عمدہ ناشپاتی اور سیب کے درخت بھی تھے۔اگست ستمبر کا موسم پھیل کا تھا۔یہاں ان کی طبیعت بہت شگفتہ رہی۔کچھ لندن آنے جانے سے شہر اور سوسائٹی کے حالات کا بھی اندازہ ہو گیا۔ہندوستانی مسلمان طلباء سے ملاقات اور واقفیت ہوئی۔اُن میں سے بعض کو وہ پہلے سے ہی گورنمنٹ کالج میں جانتے تھے۔مرزا بدر الدین صاحب امریکن مشن ہائی سکول سیالکوٹ میں استاد تھے میں ان کا شاگرد رہ چکا تھا۔بعد میں وہ سیالکوٹ میونسپلٹی کے افر صفائی ہوئے اور پھر میونسپلٹی کے سکریٹری ہو گئے چند سال بعد انگلستان برسٹری کی تعلیم کیلئے تشریف لائے