تحدیث نعمت — Page 97
94 جب حضرت خلیفتہ المسیح اول کی وفات پر حضرت خلیفہ ایسی نانی کی باری کے تحت پو ری فتح محمد سیال صاحب ود کنگ سے لندن آگئے تو مرزا بدر الدین صاحب سے بھی ان کی ملاقات ہوئی۔مرزا صاب جماعت احمدیہ میں تو شامل نہیں تھے لیکن حسن ظن رکھتے تھے۔چودھری صاحب کے بڑے مداح تھے۔میں نے کئی دفعہ ان سے چودھری صاحب کی نسبت سنا کہ یہ شخص انسان نہیں فرشتہ ہے۔ستمبر سلالہ میں میں نے بیرسٹری کا آخری امتحان دیا اور بفضل اللہ کامیاب ہو گیا۔فالحمد للہ علی ذالک - اکتوبر میں میں نے محسوس کیا کہ مسنرمی کے ہاں رہتے ہوئے میری طبیعت بہت زیادہ آرام کی عادی ہوتی جارہی ہے۔اور ممکن ہے یہ بات میرے لئے بعد میں تکلیف کا باعث ہو۔پھر یہ بھی خیال تھا کہ ایک طالب علم کی زندگی بہت سادہ ہونی چاہئیے۔مالی لحاظ سے تو مسنرمی کے ہاں رہتے ہوئے میرا خرج مسنر فائمدن کے ہاں سے کم تھا۔لیکن ان کے ہاں کی بالا نشینی میری طبیعت : دو بھر ہونے لگی تھی۔آخر بہت سوچ بچار کے بعد میں نے ہی فیصلہ کیا کہ مجھے سر فامنین کے ہاں داناں پہلے جانا چاہئیے۔میں مسنرمی کا نہایت ممنون تھا۔ان سے نقل مکان کی وجہ بیان کرنا مشکل تھا گر نمی بیان کرتا تو وہ ضرور خیال کرہ نہیں کہ مں اصل بات ان سے پچھپاتا ہوں جس سے ممکن ہے کہ انہیں کن ہوتا۔اور پریشانی نو ضرور ہوتی وہ غالبا یہی مجھیں کہ مجھے ان کے ہاں پورا آرام نہیں ملا۔حالانکہ میں حد سے زیادہ آرام سے ہی بھاگ رہا تھا۔میں نے ان کا تہہ دل سے شکریہ اداکیا اور انہیں یقین دلانے کی کوشش کی کہ میں ان کے ہاں بہت آرام سے رہا ہوں۔غور کیا کہ سرما کے موسم میں شہر کے قریب رہائش میرے لئے سہولت کا موجب ہو گی ( یہ عذر واقعہ میں بھی صحیح تھا اور ان سے اجازت کیا ہی انہوں نے بغیر کسی شکوے کے اجازت دی اور میں مسٹر فاتمدن کے ہاں واپس چلا آیا۔کریسمس کی تعطیلات میں نے فالموتھ اور نارازیون در کار نوال ، میں گزاریں فروری سم میں میں نے اپنے دستور کے مطابق حضرت خلیفۃ المسیح اول کی خدمت میں عریضیہ لکھا کہ خاکسار کو الیسٹر کی تعطیلات میں فرانس ، بلجیم ، ہالینڈ اور جمہ منی کے دریائے رائین کے علاقے میں سیر کیلئے جانے کی اجازت عطا فرمائی جائے۔حضور کی اجازت آنے پر میں نے اس سفر کی تیاری کرلی۔حضرت حضرت خلیفۃ المسیح اول سفر پر روانہ ہونے سے پہلے چودھری فتح محمد صاحب بال کی وفات کا سا نسخہ نے ایک خواب کا ذکر کیا تو شیخ نور احمد صاحب نے دیکھا جو اور خواجہ صاحب کی خدمت میں بیان کیا۔شیخ صاحب نے خود ہی اپنے خواب کی تعبیر بھی بیان کی که حضرت خلیفہ اول کے وصال کا وقت قریب ہے اور صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ۱۹۱۴