تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 83 of 736

تحدیث نعمت — Page 83

THE SHIPWRECKED وہاں سے رصد گاہ کی پہاڑی پر گیا جہاں سے شہر کے قری کے حصوں۔بندرگاہ اور سمندر کا نظا کیا جا سکتا ہے۔وہاں سیاہ سنگ مرمر کا سنگ سازی کا ایک شہر کا رنہ ہے جو کے نام سے موسوم ہے۔درمیان میں خاوند کھڑا ہے جو عزم مستعدی اور ذمہ دالہی کی تصویہ نظر آتا ہے اس کے ارد گر یہ اس کے بیوی بچے اس سے چھٹے ہوئے ہیں جن کے چہروں پر سخت خوفزدہ اور ہراساں ہونے کے آثار ہیں۔بیرونی بندر گاہ میں خوب رونق تھی۔یہاں سے چھوٹے چھوٹے جہاز پر سمت کو جاتے تھے۔ہیکنگ فورس کے ارد گرد بھی سٹاک ٹائم کی طرح بہت سے چھوٹے بڑے جزیر ہیں۔گرمیوں میں بہت سے لوگ ان بجزہ یہ دل میں پہلے جاتے ہیں۔یہ بہانہ شہر اور جمہیر وں کے درمیان چکر لگاتے اور اس طرح ایک قسم کی کسی سروس مہیا کرتے تھے۔میں بھی ایک جہانہ پر سوار ہوا جو تریکے جزیرے کو جاتا تھا۔اس جزیرے میں ایک پارک تھی جس کے اندر پچھڑ یا گھر اور مطعم وغیرہ بھی تھے میلنگ فورس میں قیام کے دوران موسم خوشگوار تھا۔میں سیر کو نکل جاتا اور وہ مقام پسند ہوتا ریال بیٹھ کر گھنٹہ دو گھنٹے مکالے کی ایک کتاب ہو میں ساتھ لے گیا ہوا تھا پڑھ کر مکانے کی سختہ بہ سے لطف۔اٹھانا کبھی کتاب بند کر دنیا اور پیش نظر منظر سے لطف اندوز ہوتا۔تیسرے دن سردار محمد اکبر صاحب تشریف لے آئے اس وقت تک میں اس قابل ہو گیا تھا که قابل دید مقامات کی جانب ان کی رہبری کر سکوں علاوہ ان مقامات کے جن کا ذکر آپ کا ہے تیم نے طالب علموں کی کلب کی عمارت دیکھی اس عمارت کے دردانہ سے پر لاطینی میں یہ عبارت کنندہ تھی: "SPEI SUAC PATRIA DEDIT, HELSINGFORS" (CIVEN BY FATHERLAND TO ITS HOPE) دہ دن اور دوسرا دن ٹھہر کر ہم دوپہر کو بذریعہ ریل سیلنگ فورس سے پیٹرز برگ روانہ ہو گئے ہوگئے سابق پیٹرز برگ حال لینن گراڈ ا ہم کوئی دس بجے رات میٹر نہ بہ گ پہنچے۔سٹیشن سے ہم نے ایک دروزہ کی ( گھوڑا گاڑی کرایہ بچہ لی اور کو پھر ان سے کہا کہ ہمیں سینٹ آئزک سکوٹر میں ہوٹل انگلے ٹیر پہنچائے۔وہ انگریزی تو مجانشانہ تھا لیکن اس نے سینیٹ آئزک کے الفاظ سے شاید کچھ اند کر لیا۔وہ پھر سے تو نوجوان معلوم ہوتا تھا لیکن باوجود گرمی کے موسم کے اس نے کپڑے اتنے نہیں رکھے تھے اور وہ بھی کر دی بھرے لحاف کے بنے ہوئے کہ وہ خود بھی روٹی کا ایک بڑا تخصیلہ نظر آنا تھا۔یہ لباس کوئی اس کی خصوصیت نہیں تھا۔وہاں سب کو چھو ان ویسے ہی لباس میں روٹی کے تنقیلے نظر آتے تھے۔اس لباس کے پہنے کی وجہ یہ معلوم ہوئی کہ موسم سرما میں پیٹرز برگ میں بڑی شدت کی سردی