تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 65 of 736

تحدیث نعمت — Page 65

۶۵ میں نے کہا نہیں ہوش میں آنے پر رورہا ہوں اور یہ شعر پڑھا۔ما در پیاله عکس رخ یار دیده ایم اے بے بخیر ز لذت شرب مدام ما اس نیم بیہوشی میں بھی یہی احساس تھا کہ زندگی کی قید سے نکل گئے تھے پھر واپس آگئے۔بعد دو پہر جہاز نے لنگر اٹھایا اور فورڈ کی دوسری طرف کو روانہ ہوا۔فورڈ کا نظارہ بہت ہی پر لطف تھا۔یہ فورڈ نہ سمندر ہی کی شاخیں ہیں جو دور تک خشکی کے اندر پہاڑوں کے بیچوں بیچ چلی جاتی ہیں۔ان کے اندر سمندر کے بجوار بھاٹے کا اثر تو پہنچتا نہیں اسلئے بہانہ میں کوئی حرکت محسوس نہیں ہوتی اور پہاڑوں اور درمیان کی وادیوں کے مناظر بہت دلفریب ہوتے ہیں تین چار گھنٹوں کے بعد یکم فورڈ کی ایک اور شاخ میں عید کے مقام پر پہنچے اور یہاں جہاز سے اتر کیر ایک ایک منزلہ ہوٹل میں پہلے گئے۔یہ وادی بہت خوبصورت تھی۔اور موٹل کے ارد گرد کا منظر بہت دلکش تھا۔دوسری صبح ناشتے کے بعد ہم گھوڑا گاڑیوں پر دادی سے پہاڑ کی طرف پڑھنا شروع ہوئے۔یہ گاڑیاں ہمارے ملک کے پرانے بمبو کاریٹ کی طرح کی تھیں۔فرق یہ تھا کہ علاوہ دو سواریوں کے بہو گھوڑے کی طرف منہ کر کے بیٹھتی تھیں۔ایک سیٹ ان کی سیٹ کے پیچھے کو جو ان کیلئے بھی تھی۔گھوڑے کی اسیں کو پیو ان کے ہاتھ میں ہو تیں اور وہ اپنی سیٹ سے میٹھے میٹھے گاڑی ہانکتا۔راسیں دونوں سوار یونکے درمیان سے گزرتیں۔صبح کے وقت ہوا میں کچھ خنکی تھی لیکن ہوا نہایت لطیف اور صاف تھی میٹرک بل کھاتی ہوئی جنگل میں سے بلندی کی طرف جارہی تھی اور سارا سماں بہت ہی پر لطف تھا۔دوپہر کے وقت ہم کو اس پہنچے۔لب سڑک ایک ہوٹل تھا۔جس کی عمارت لکڑی کی بنی ہوئی تھی، چاروں طرف جنگل کا سبزہ اور درخت تھے۔کوئی اور آبادی یہاں سے نظر نہیں آتی تھی۔ہم گاڑیوں سے اتر کہ تھوڑی دیر ادھر ادھر ٹہلتے رہے۔پھر ہاتھ منہ دھو کر دوپہر کے کھانے کیلئے تیار ہو گئے۔کھانا تھا تو بالکل سادہ (ابلی ہوئی مچھلی ، گرم کئے ہوئے مکھن کی ساس ، ابلے ہوئے آلو ، تازہ سٹابری اور کریم، لیکن ہر نے نہایت لذیذ تھی جسے بھوک نے لذیذ تر بنا دیا تھا۔کھانے کی افراط تھی۔ہوٹل والوں کو ضرور علم ہو گا کہ منگل کی صاف ہوا اور پہاڑ کا منظر بھوک کو بہت تیز کر دیتے ہیں۔اس احساس کے ماتحت سٹابری کیلئے بھیٹی قشتریاں نہیں بلکہ گہری مشتریائی مہیا کی گئی تھیں۔مہمانوں نے بھی میز بانوں کی تواضع کی خوب داد دی۔معلوم ہوا اس ہوٹل کے کھانے کی بڑی شہرت ہے۔دیواروں پر بجا بجا بادشا ہوں ، شاہی خاندانوں کے افراد اور مشاہیر کے تعریفی خطوط آویزاں تھے جن میں بہت پسندیدگی