تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 58 of 736

تحدیث نعمت — Page 58

تعلیم یاسے تھے۔انسے معلوم ہوا کہ میرا نا اور پینا انہیں اس کرد مویل روڈ سے بھیجا گیا تھا اور خواہش کی گئی تھی کہ وہ وقت نکال کر مجھ سے ملیں کیونکہ میں انگلستان میں ایک نو وایہ دہندوستانی طالب علم ہوں جس کی ابھی یہاں کسی سے واقفیت نہیں۔میں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے میری خاطر اس قدر تکلیف خصوصاً ایسے موسم میں گوارا فرمائی۔چائے کا وقت قریب تھا۔انہوں نے چائے کیلئے ٹھہر نامنظور کیا۔ان سے معلوم ہوا ان کے والدین لندن کے شمال کی طرف بارنیٹ میں کھیتی باڑی کرتے ہیں۔رخصت ہونے سے پہلے انہوں نے مجھے اپنے کالج کا پتہ اور مقام بتایا اور۔نے اور اور مجھے چائے کی دعوت دی۔تاریخ مقررہ پر میں رچمنڈ گیا۔مسٹر بیلیز مجھے سٹیشن پر مل گئے۔اسٹیشن پر سے ان کے کالج کا فاصلہ ایک میں سے زائد تھا اور تیز بارش ہو رہی تھی۔ان دونوں چھتری کا بہت کم رواج تھا شہر میں کام کرنے والے پچھتری استعمال کرتے تھے۔باقی لوگ سردیوں میں اوور کوٹ تو اوڑھتے ہی تھے سر پر بولر ٹوپی پہنے کا رواج تھا۔اس ٹوپی پر چھ مہینے بارش پڑتی رہے تو بھی اس کا کچھ نہیں بگڑتا تھا۔گرمیوں میں ہر شخص رواٹر پروف کوٹ اپنے باز پہ ڈالے گھرسے نکلتا تھا۔ہم دونوں نے اپنے کوٹ کے بٹن گھنے تک بند کر لیے اور چھڑیاں ہاتھ میں لئے کالج کی طرف پھل پڑے آخری نصف میل ریمنڈ بل کی پڑھائی تھی اور بارش کی شدت تیز ملنے پر مجبور کرتی تھی ہم نے یہ سارا فاصلہ گویا ڈبل مات کرکے لئے کیا۔ان کا کمرہ خاصا آرام دہ تھا انگیٹھی میں آگ بھل رہی تھی کوٹ تو ہم نے لیک رویے اور کرسیاں آگ کے سامنے کھینچ کر آرام سے بیٹھ گئے۔چائے کے ساتھ ان کے گھر سے آیا ہوا کیک بھی منھا۔باد سجود بارش میں مارچ کرنے کے ہمارا وقت بہت دلچسپی میں گذرا۔چائے کے بعد مسٹر جلینز نے مجھے کالج کے بعض حصے دکھائے۔میری واپسی کے وقت تک بارش تھم گئی تھی۔اس کے بعد ہمارے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری رہا اور جب تک مسٹر جلینر کا لج میں رہے دو دین بار سال میں ہمارے ہاں آتے رہے اور میں ان کے کالج میں جا کہ انہیں ملتا رہتا۔مجھے جب بلاتے تو لکھتے کہ گھر سے کیک آیا ہے تم فلاں دن آجاؤ تو خوب ہو۔مجھے کیک کا کوئی خاص شوق نہیں تھا۔لیکن وہ اکرام ضعیف کے طور پر ایسا لکھ دیا کرتے تھے سالہ کی گرمیوں میں اور سائے کی گرمیوں میں میں ان کے ہاں بارنٹ بھی گیا۔ان کے والدین اور بہنیں بہت تباک اور تواضع سے پیش آتے رہے۔ان دونوں ابھی بجلی کی ریل بارنسٹ تک نہیں جاتی تھی۔گولڈ نہ گرین سٹیشن سے بس پر سجانا ہوتا تھا۔ایک مرتبہ تیز بارش ہو رہی تھی شاید مسٹر جلیز کے ساتھ بارش کو خاص رابطہ تھا) نہیں کے اور پر کے عرشے پر چھت نہیں ہوا کرتی تھی۔دستور تھا کہ بارش کے وقت خواتین نیچے بیٹھیں تاکہ بارشیں