تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 685 of 736

تحدیث نعمت — Page 685

۶۸۵ ہو چکی ہے چند ماہ بعد شادی ہو گی۔میری بڑی خواہش ہے تم شادی میں شریک ہوسکو۔اپنے والد محرم کے متعلق بتایا کیا ضعیف احمر لی لیکن صوم و صلواۃ کے پابند ہیں۔قرآن کریم کی تلاوت عربی رسم الخط والے مصحف سے ہی کرتے ہیںگو میں خود علی رسم الخط نہیں جانتا میں نے رخصت ہوتے وقت قرآن کریم کا اک نسخہ جو بہت خوبصور عربی رسم الحوظ می مصر مں چھپا تھا اور غالباً صدر بلدیہ س نے مجھے اور باری عطافرمایا تھان کے پر کیا کہ بیطرف سے اپنے والدمحرم کو بطور ہدیہ پیش کر دیں۔ماسکو واپسی ناشتند واپسی پر مارا ارادہ ماسکو میں ایک دن مرنے کا تھا۔میں نے وزیر خارجہ کی خدمت میں ی ای او ایمان نوازی کا شکریہ دینے کی خواہش تھی دیکھایا؟ یں نے کہا دیکھ لی اور بہت دلچسپ پایا۔رخصت ہوتے وقت انہوں نے سیٹنگ SPUTNIK کا ایک چھوٹا سا ماڈل اپنی طرف سے مجھے بطور ذاتی یادگار کے عطافرمایا۔وارسا پولینڈ | دروس کے روزیم پولینڈ کے دارالحکومت دارسا جانیوالے تھے اس دن برف باری ہو رہی تھی سطر پر پہنچ کر ایا یا ایا نہ ہی سفر کیا اور ابھی وارسا نیاکان مارپیری کھایا، کان نظر کے و کار و پرواز منسوخ ہوئی ہے لیکن پولینڈ کی کون ہمارے ای یار دوران کر دیا ہے۔اس اخیر کے تھے می ا اوراس کا قیام و سی ای تخت تا اور بھی مر گیا۔میں بھی اس کا اسوس تھالیکن دیا پہنچنے پر را کے وزیر خار بر عقب ایسا کو بی پایان پاراکین کا کان کا مارا پروگرام مجبور منسوخ کرنا پڑاتھا۔انہیں ان پلیدی کمپنی سے شکایت تھی کہ انہوں نے " ردان میں تاخیر ہو جانے کی انہیں ہر وقت اطلاع نہ دی در نزدہ فوراً خاص طیارہ بھجوا دیتے ہم نےان کے خاص طیارہ بھجوانے کا شکریہ ادا کیا لیکن ان ہوائی ان سے کی زندگی کم نہ ہوئی۔ہم اسامی ایک مزید قیام نہ رکھتے تھے کیونکٹا کر نیسے ہاری پاگ کے پروگرام ابر ہوتی جس کے نتیجے میں ہار پرک کے میزبان آزردہ ہوتے۔ہم نے درس میں جتنا بھی وقت ملا اس کا پورا استعمال کیا می " تھے سرمی درسی رورت ہے۔ایک اس مقام پر ہی بہت کچوار دیکھنے کے قابل لا کی موت کی نیکی وجہ سے دنیا بھر کے حکومت کے ین اور اے کی ان سے ہمارا نہایت پاک در تواضع کا سلک ہو اس کاری دونوں میں پاکستان کے متعلق اور ذاتی طور پر مرے متعلق نہایت اخلاص کا اظہار کیا گیاجس کے متعلق میرا سا تھا کہ من لفظی نہیں وزیر خارجہ نے مجھے ان طرف سے اسلامی فقہ کی یک فیف کا پانالی نخ دیا جس کے متعلق میں اس وقت تو صیح اندازہ نہ کر سکاکین پاکستان نے پرمعلوم ہوکر رواداری سے ہے۔فجزاه الله احسن الجزاء پراگ چیکوسلواکیہ درس سے ہم چکوسلواکیہ کے دارالحکومت پر گئے یہاں بھی ہمارے ساتھ ویسے ہی تاک اور تواضع کا سلوک ہوا جیسے اس میں ہوا تھا۔پراگ سے باہر میں پیس می پرایک تاریخی حل ہے جو ایک پہاڑی کی بلندی پر ہے۔ہم اسے دیکھنے گئے۔جوان ہماری رہنمائی کیلئے ہمارے ساتھ گئے تھے ان سے اس محل کے متعلق بہت سی دلچسپ تاریخی تفصیل گئے تھے ان سےاس