تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 683 of 736

تحدیث نعمت — Page 683

گاؤں کے ستوں میں سے کس کر کے اندر نظرنہیں جتی تھی۔دو طرف اونچی کی دیواری تھیں۔جب ہم دروازے سے داخل ہوئے تو ہارے میں اسنے ایک گھنا یہ تھا جس سے ذراہٹ کو سبزی کھیت نادر رانی مکان مارے دائیں ہاتھ تھا اور بردنی دیوار کے متص اور متوازی بنا ہوا تھا منی ہی تھائی میں ہم داخل ہوئے تھے من کی دائیں جانب تم ایک ہی آمدے میں داخل ہوئے جس کی تین دیواری شیشے کی تھیں اور فرش پٹائی کا تھا۔برآمدے کے پیچھے دالان تھا۔دالان کے باز میں یکے بعد دیگرے کے بنے ہوے تھے۔سب فرش بچھائی کے تھے۔سب کے روشن اور مان تھے۔گھر کا ایکا میں ہوا تو انہیں ان کی زبان تو ہم جانے نہیں سامان ساده نه ے ان کے کرکے کیا اتار کر اس سے انا ارادہ کیا کہ ہمارا پورا نہیں اور انہوں نے میرا ایک بار سے تہوں دنی اور پر سامان نکالی اور قہوہ تیار کرکے پیش کیا تو نے بڑے شوق اور کرنے کے ساتھ نوش کیا۔بانی کے درخت پھل سے لدے ہوئے تھے سبزیوں کے کھیت کو ہم نے نزدیک سے نہیں دیکھا لیکن یہ اور تاکہ یہ زمین کا کار و صاحب ان کی ذاتی ملکیت شمار ہوتا انہایت حنت سے کاشت کیا ہے ہم نے اندازہ کیاکہ اڈا کے دارا ی ی ی ی ی ی ی ی ی یم اور تندہی سے کاشت کئے ہوئے ہوں گے اس کڑے کا ایک انچ بھی بے مصر نہیں تھا۔کالموں کے دفتری سادہ عامر کے سامنے بھی ایک متر بانی ایک نہر کے کنارے پر تھا جس کا سایہ تمازت آفتاب کی وجہ سے بہت خوشکو محسوس ہوا۔بینک کے کنارے پر پہر کے کھانے کی میز لگائی گئی تھی یہ خاصی گہری علم ہوتی تھی اور پورے زور سے بہرہی تھی۔اس کا کوئی بیس پیس ڈٹ کا ہو گا محترم نائب صدر صاحبہ نے جو اعداد وشمار کہیں نئے اس سے میں اندازہ ہو کر اس گاڑی یں ایک اوسط کہنے کا حصہ گاؤں کی مشترکہ آدمی پاکستانی سے میں پندرہ سے بیس ہزار روپے سالانہ بنتا ہے۔سکول کی تعلیم شفاخانے کی خدمات از بچگی میں ڈاکٹر، را بہ وغیرہ کے مصارف اس آمدی تیزاد سے بیس ہزار تھے ونود کی مشرک آدمی سے ہونہار بچوں کو کالج اور درین کولونوسی میں بھی تعلیم لائی جاتی تھی۔اس کے پر دونوں اس نے ہیں بتایا کہ یہ کو لخوذ از یکستان کی چند نہایت اعلی اور کامیاب کو لخوں میں شمار ہوتی ہے۔زمین بہت زرخیز ہے اور آبپاشی کیلئے پانی ا افرا امیر ہے۔انہوں نے فرمایا کہ جنوبی سوٹیوں کے علاقوں میں آبپاشی کے وسائل ابھی تک محدود میں گرفتہ رفتہ ان میںاضافہ ہو رہا ہے۔جیسے جیسے مزید وسائل آبائی بروے کار آتے جائیں گے ان لاتوں کی والی بڑھتی جائے گی اگر عورت کے مطابق پانی می یابان ارم بن سکتےہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شروع شروع می جب اشتراکی تعاونی نظام ان علاقوں میں جاری کیا گیا تھاتو سب سامان اور سارا عمل درس سے لایا گیاتھا لیکن اب آپ دیکھتے ہیں کہ اسے شعبوں کا انتظام ان لوگوں کے اپنے ہاتھوں میں توسب سامان عملہ * ان ہے اور یہ انہیں کامیابی سے چلا رہے ہیں۔تاشقند کے نواح میں ہم نے ہڈیوں کی تپ دق کے نوجوان مریضوں کاسینی توری بھی دیکھا۔اس ہی طبیب علی ای از یکی خالی تھیں جن کے تحت کئی ان کی مرداور عورت ڈاکٹر در دایہ کا کام کرتے تھے اسی ٹیم کے بنے اس طور پر بنائےگئے تھے کہ ضرور او روی کے مطابق ان میں ہوا، سورج کی روشنی ، گرم اور سرد درجہ حرارت کا انتظام آسانی سے ہو جاتا تھا۔دیواریں سب لکڑی کے تختوں کی تھیں۔یں نے دیوار کو ہٹانا ضروری ہوتا اس طرف کے تختے ضرورت کے مطابق سر کا دیے جاتے۔سارے بنگلے باغ کے اندر بنے ہوئے تھے۔