تحدیث نعمت — Page 678
وزیر خارجه مسٹر گرومیکو کی طرف زیر خار بر سر گر میکونے میں دور کے کھانے کی دعوت دی۔جیس سے دعوت طعام میں میاں ارشد حسین صاحب بھی موجود تھے۔فہرست طعام اردو میں تھی۔گفتگو انگریزی میں ہوتی رہی۔ترجمانی کی ضروت نہ پڑی۔مہمانوں میں نئب وزیر خاری سالی سفر د دین بھی شامل تے جارہے اس کے قیام کے دوران میں سر درین خصوصیت سے ہی ساتھ شفقت اور تو ان کا سلوک کرتے رہے۔سفیر ارت حسین کی طرف سے میاں ارشاد حین نے فرمایاکہ انکار سے وزیر خار برادران کے چند رفقا و دو وزیر خار یکی دعوت طعام ودینی سناتے چنانچہ انہیں سفارتخانے میں دوپہرکے کھانے کی دعوت دیگی ما ات نے بتایا کہ یہاں کے دستور کے مطابق تمام دین حکومت دعوت نامے کا جواب دستور کے دن دیتے ہیں کہ وہ دعوت میں آسکیں گے نہیں ت کے دن بی بی اطلاع ملی ہے کالا مہمان آسی کے اور الا نہیں سکیں گے میری ان کو پوری تیاری کرنا پڑتی ہے بعض دفعہ آخری دن اطلاع ملتی ہے کہ مہانوں میں سے کوئی بھی نہیں سکے گا۔میاں صاب کی دعوت کے دن صبح اطلاع ملی کہ وزیر خارجہ اورباقی سب مہمان کھانے پر آئں گے۔البتہ وزیر خارجہ کھانے کے بعدکسی اور تری میں جانکے لئے بعد رخصت طلب کر کے کھانے پر تو بالکل آزادانہ رہی۔وزیر خارجہ کے رخصت ہنے کے بعد باقی میان قریب نصف گھنہ ہی بھورے مسٹر خر و شیف سے ملاقات حب ارتین تا الان علی یا اور میں سر خوشی کی انا کیلے اراکین جان کے لئے روانہ ہوئے تو میں نے میاں صاحہ ہے دریافت کیا کہ انداز گفتن وقت ملاقات رہے گی تاکہمیں اس اندازے کے نا کرنے کی تیاریوں اور کوکولی کی بارہ بنوں میں مانے فرما امیر ملاقات ان کے ساتھ اب تک تو مختلف تقریروں کے دوران میں ہوتی رہی ہے۔کریم میں لانا کیئے جانے کا میرے لے پالا وقت ہے۔لعنا۔ندازے سے مر نا کر سکتا ہوں کہ نصف گھنٹ منسب ہوگا چی من کی گفتگو کے بعد رحت طلب کر لیا۔میرا ٹر نوشین۔الات کا یہ پہلا ہوا تھا۔اس سے لے کبھی نہ رکھنے کا اتنا ہی ہوا کرے میں داخل ہونے پر درانی کس سے ٹھ کر مری را رھے اور تینوں سے مصافہ کیا۔بعدمیں تو نہیں کیے گئے اسے ظاہر ہوا ہے کہ صاف کرتے وقت ہم دونوں کے چہرے بڑے سنجیدہ تھے۔میں انکی خدمت میں محض اس احساس کے تخت حاضر مو انھا کہ میں ان کا مان تھا اور میرا فرض تھا کہ میںان کی خدمت میں حاضر کوکر ان کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیں کسی خاص موضوع پر گفتگو کا ارادہ نہیں تھالیکن رے میں پہنچتے ہی ایک خیالی میرے ذہن میں یا جس کے نتیجے میں گنگو کی ابتداء اس طور پر ہوئی۔ظفرالد - جناب صدر وزارت آج دنیا می دو شاخ ایسے میں نے منع کیا جاسکتا ہے کہ ان عالم کواپنی بیو یں تھامے ہوئے ہیں ان میں ایک آپ ہی کیامیں یہ ا ا ا ا ا ا ا ا ا امام برقرار رکھنے کیلئے آپکی کر رہے ہیں مسٹر خروشیف۔اس وقت امن عالم کیلئے ہے مشکل اور پچیدہ مسا مشرقی و مینی کاہے اگرہ مناسب طریق سیکھانا جاسکے تو ان عالم کے رستے کی سب بڑی رکاوٹ دور ہو جائے گی۔ہم اسے منسب اور معقول مرفق پرسکھانے کیلئے آمادہ ہیں لیکن