تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 670 of 736

تحدیث نعمت — Page 670

مفتی۔اسی طرح جو کچھ میں گذارش کرتا جناب ترجمان اس کا مختص سے مختف خلاصہ عرب میں کہ دیتے اس پر پھر سلطان مسکرا دیتے۔ونکہ سات کا عدہ کوئی پون گھنے کےقریب رہا۔ستم کی تر جانے سے ایک تم کے ان کا رنگ دیدیا۔مانا کے آخر میں الہ المک نے ایک ان کو اشارہ کیارہ ایک میں سے آئے اور ان کی امت می کر دیا سلمان نے فرمایا اللہ خان تم نے جو ت مراکش کی اور میرے نانا کی انجام دی ہے اس کا دل تو کسی صورت یا ایک کا ایک بے ہوش ہو یا گرم میسان رو مراکش کا اعلی ترین نشان ہے) میری طرف سے میری خوشنودی و دوستی کی یاد کے طوری قبول کر اور ترجمان او نے ترجمہ کرتے ہوئے صرف تاکید کر جان چھڑائی کہ بادشاہ تمہیں یہ شان بطور اعزاز عطافرماتے ہیں۔میں نے دو تین منٹ میں حلالہ الملک کا ناب ای ریاکاری کی کہیں گرم کیا اس کے لوگ یا شای خاندان کی کئی خدمت سرانجام دے سکا اور میرا فرض نبی تا اور میرے ئے بات بات بھی نا ہر بند کریں ایک عاجزان اپنے آپ کو ا لا اکرم کا جن کا لیں یاں ہی مر رہا ہوں ور اب ارزان کا جو ملالہ الک بناناچاہتے ہیں ہی نہیں تھا لیکن اس تمام شفت اور اخلاص کے شکریے میں سے قبول کرتے ہوئے ان طرف ے کمال اخلاص کا دی خدمت سلامی پیش کرتا ہوں۔ترجمان احب نے اس گذاری کا مجم مرا ناک کے کچھ چھڑا کہ میں نے نیش اس کا متحق تو نہیں تھا لیکن آپ دیتے ہیں تو یں لے لیتا ہوں۔ا لا الہ الا امریکہ تشریف لائےاور نیا کے تمام دوران امامت میں بھی جلوہ افروز ہوئے۔افراتي یای ماندگان کو اب کیا او را این اتفاق سے افریقی ایشیائی گروپ کی مہینے کی صدارت پاکستان کے دی تھی میں نے بات مختصرالفاظ میں علی حضرت کاتعارف کرایا اور وہ شدت معذبتعد امر یہ تعریفی کلات کے اعمال سے پر ہی کی حالت الملک نے نے ی ابتدا یا ان کی شان میرے سے یہ قریب یا خوشی کا کیا ہوا ہے یہ ہی وہ ماہے کہ میں اس مر مستی اجی کے پراس وقت افقی ایشیائی رب کی صورت ہے البان ملک کیطرف سے اور انار سے لا الاعلان اس امت کے لئے شکریہ اداکرنی و کار سخت مشکل وقت میں وہ بجائے میں نے ان جذبات کا اظہار سے باب میں بھی کیا کیا آپ کے اس نے بھی کرنا چاہتا ہوں جب مراکش کا قضیہ اقوام متحدہ میں پیش تھا اس وقت بار حقی در دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر کئے جاسکتے تھے لیکن جس من ظفراله خان کی تقریروں کا خلاصہ ریڈیو پہنتے تھے اخباروں میں پڑھتے تھے وہاروں اس یقین او اطمینان سے پڑھو جاتے تھے کہ ہمیں ضرور امات ہوگی کیونکہ ہماری والا ایسے اہراور قابل شخص کے ہاتھوں لی ہے۔ان کریانہ الفاظ کے بعد سلطان نے آدھ گھٹے کے قریب ی نیکی و یا یاداشت کے ارین ایشیائی خاندان سے ان کے ان سے تعلق بنات ولی خب فرمایا اس سے مجھے نہایت اطمینان ہوا کہ حاضرین کو سلطان حسن کی ذات کے متعدی می اندازدہ کرنے کا موقعہ مل گیا ہے۔الہ الملک کا خطاب سادہ اعبات آرائی سے تیرا اور موقعہ محل کے لحاظ سے نہایت موزوں اور موثر تھا۔ملالہ الملک کاقیام لانا ہوٹل مں تھا۔ان ملنے پرمیں حاضر خدمت ہوا کے کی ڈیوڑھی دال با او دم میشنی میں جب کوئی خام تا استقبال کےلئے کاہے لیکن اب اناناس اور اضافہ کیئے ہاتھ کیا کیونکہ ا نی نی منظر کے تھان کے اس کی انتہا کیا اور ان کے سالانہ ڈیوڑھی میں تشریق کے تا