تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 669 of 736

تحدیث نعمت — Page 669

ہمیں قصر ابیض ( CASABLANCA ) جانے کا موقعہ ہوا جو مورش اور مغربی طرفہ کا مرکب خوشنما شہر ہے فیض انا مدرسے کے ایام سے سنا ہواتھا۔دیکھنے کاشون تھا۔یہ آرند بر آئی۔فیض مراکش کاندی دارالحکومت ہےاور آج بھی مراکش می دینیات کا مرکز ہے۔قدیم شہر کا محل وقوع وفاع کے لحاظ سے بہایت محفوظ ہے شہر در بلندیوں کی گودمیں واقع ہے شہر کی آبادی اس قسم کی ہے کہ اسمیں ی ایزای ایتبدیل کی گنجائش نہیں پرانا شہریوں کانوں موجود ہے البتہ ایک میدان میں ایک نیا کا شہر آباد ہوچکا ہے جنہیں بنیادی ہوتی رہتی ہے۔قدیم فیض کے تمام بازار سلف ہیں گلیاں تنگ ہی شہر کے اندرآمدورفت پا پیادہ ہوسکتی ہے البت بار بیداری کیلئے چرا درد سے ستعمال ہوتے ہیں۔گلیوں اور بازاروں میں کچھ دیر گذارنے کے بعد بیت میں کھلی ہوا میں ان کی خواہش محسوس ہوتی ہے اہالیان شہر عادی ہو جانیکی وجہ سے شائد یہ خواہش محسوس نہ کرتے ہوں یوں مکانوں کے صحن کشادہ ہیں اور ان میں داخل ہوتے ہی سینے سے وہ یہ جو ہلکا ہو جاتا ہے جو بازاروں اور گلیوں میں محسوس ہوتا ہے۔شہر کی اپنی مالی طرزکے علاوہ ماں کا دنیا کتب خانہ قابل دیدے ایسے ان ریلی نے اس میں جمع ہیں فیض کے علماے کرام کا فوری سارے ملک میں قابل پذیرائی ہے۔شاہ مراکش کے دربار میں حاضری ) علالت الملک کے درباری ماری ہرے سے بات تھی حمل کے صحن میں فوجی عزازی دسته ( گارڈ آف آنر ) صف بستہ تھا ایوان در بیانہ کی ایک جانب فرش کی سطح باقی ایوان سے کوئی در فٹ اونچی تھی۔اس اوپنے کتے کے وسط میں یک مر کر حلالہ ملک کیلئے بھی ہوئی تھی۔ایوان کی سطح پر دینے سے کوئی میں نے ہٹ کر ملالہ الملک کے بائی ہاتھ کی جانب ایک کرسی سے لئے بھی ہوئی تھی سارے ایوان میں اور کوئی نشست کا سامان نہ تھا۔میرے مقابل حلالہ الملک کے امی ہاتھہ کی جانب وزیر اعظم، وزرائے کرام اور عمائدین سلطنت دست بستہ صف آراستہ تھے۔جلالة الملک کی تشریف آوری پرمیں تنظیم کیلئے کھڑا ہوگا۔باقی حاضرین ایران توسل ہی کھڑے تھے اورسلاوت کرے سے بالالا لالا نے مجھے نے ارشاد را از جانی کا فرض بین صاح کے سپرد کیا گیا تھارہ پاکستان میں مراکش کے سفرہ چکے تھے مجھے ان سے نیاز حاصل تفادہ نصرا بیضی اور فیض بھی یرے براہ شریف کیے تھے انہوںنے پاکستانی سفارتخانے سربراہ کا کا مالک کے دربار میں ایمان کے ئے ایک مشکل کام ہے اوروہ نہایت خال ہیں لہذا مجھ سے رات کا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ر کر کے میں نہیں مشک نہ ہو ا امام بنا دیاگیا علاقہ الملک بنات سادہ اس میں تھے یا کمی یا مراکش کے دوران میں نماز کا کا دیا سب لم بالصوا ملاقات کے دوران میں سلطان کے چہرے پرایک شکاران این تیم دربھی بنایاں ہوجانا کلام آہستہ آہستہ اور بالکل سادہ الفظ میں فراتے جس میں پوری رح سمجھ لیا۔ترجمے کی اب نہ رہتی لیکن ترجمان کے ذمے ایی این را ادا کرنا اور میرایہ نکالا کاکام کی ایمانی کی ضروت نہیں خلاف آداب دربار ہوتا۔بے چارے ترجمان کی حالت قابل رحم تھی۔ان کا چہرہ پینے سے ترتھا۔علامہ الملک و کچھ تین منٹ میں فرماتے تم جان صاحب اس کا خلاصہ نصف منٹ میں انگریزی میں کر دیتے۔سلطان میری طرف دیکھ کر کر اپنے مرے جواب سمجھ جاتے ہیں نے انکی بات جھولی -