تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 668 of 736

تحدیث نعمت — Page 668

YYA بچیوں کی درسگاہ اور رہائش گاہ ہے۔بچوں کا لباس صاف ستھرا اور نہایت ہی تھا۔بچیوں کے چہرے بشاش اور پراعتماد تھے یوں کو تو تمامی کانام دیا گیاتھانہ ان کے دوست الا ان استانی عوام اس کی تائی کوزندگی اتا ہے۔فرض اطال الشہدا کانام نام گویا اطفال الروس کے چار پہ تھا ہم مالش کرو میں سے ایک ایسے کے مں ھی داخل ہوئے جسمیں رہنے والی بچیاں اس وقت پنے میں سوار ہو کرنے کر کے ان کی شام میں مصرون تنی ہوتی دروازہ اور کیوں نہیں دیکھا ان شال چھوڑ کرم میں سے ایک کےساتھ لی گئی تو تا کمر میں دنگل کا باربن گئیں یہ بے ساختہ رومی اس بات کا اور تاکہ ان بچوں کیلئے مکان رہائش اور سامان خور و نوش اعلی پیمانے پرتھے۔ان کے ساتھ محبت اسلوک ہوتا تھامیں کا بوت ان کے چہروں ، خود خال، بینیم، حرکات کا اساس الا انار انارکی کی آزادی کی ابھی اتنا تھی۔حکومت اور عوام کو پچیدہ مسائل و مشکلات کا سامناتھا کی لاتے ہو کئے جانے کے نظر تھے کی ضروریات تھیں جوپوری ہیں کی جاتی تھیں لیکن اس ایک ذمہ داری کو تو قوم پران اناروں کی طرف اب بھی جنہوں نے ان جانیں قوم کی خطر تربان کردی تھیں تو سوفیصد سے بڑھ کر پورا کردی تھی زندہ قوم کا ہی تو ایک شان ہے۔مجھے بتایا گیاکہ اطفال الشداد کی مناسب ات اور علم رتی کیلے کی باقاعدہ محکمہ ہےاور اس سم کے ادارے ملک کے ملا تو میں امام ہی اللہ تعالی اجرائی کی ان ماعی حسنہ کو اپنی قبولیت سے نوازے اور را فراجہ اپنی طرف سے عطافرمائے۔آمین۔ایام کے دوران میں وزیر خارجہ ایک شیر کاکا کرے اور ہارنے کا ہے اورمیں سرکے لے گئے۔محترمہ ناظم نیستی بھی ہمارے ساتھ تھی بس کے آخرمیں ہم نے چھ وقت کی پرانے دی شہر کے کھنڈرات میں گذارا۔شہر سمندر کے ایک را تا محل وانا بنات یک تھا ہی نصف گھنواں ماہرہ خان نے نے ان کی پریشانیوں سے بنا آزادی " س سورت کی کرن پھوٹ پڑے اور فرائی بال پھراس کرن کو ڈھا ہی میں یا ہو ا ا ا ا ا ا اور متحدہ کی املی کے آئندہ ہلاک میں تو ابھی سات سو سے زائد کا وقت ہے لیکن درمیان میں من ہے مرے نیو یارک آنیک موقعہ پر مطار پیاسی تپاک سے بیعت کیا جس سے آنے پر استقبال کیا تھا۔مراکش الجزائر سے مں مراکش یا رباط میں بیر نام کا نظام شایاران را فیلم تھے لیکن اس منصب نے ان کی طبیعت کی سادگی ، سنجیدگی اور شیرنی میں ذرہ بھر نہیں ہونے دیا تھا۔انکی سرکاری رہائش گاہ بڑی پر شوکت تھی۔مجھے شام کےکھانے پر عور رایا۔مہانوں کا ہجوم تھا۔وقت رخت آیا توفرمایا مہانوں کو خصت ہولینے دو پھر بھی بھی آپریشن کے دال کی زندگی میں نہ آسکے مرحوم سلطان کی بڑی خواہش تھی کریم میں آتے اور وہ خوداپنی طرف سے اور تمام مراکش کی طرف سے ان ندا کریہ ادا کرے جو تمت مراکش کی آزادی کے سلےمیں کمی اسوس دو جوان میں رحلت فرمائے اور کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔i