تحدیث نعمت — Page 50
قیام لندن کے دوران سیر و سیاحت ایسے میں ذکر کر چکا ہوں میں بفضل اللہ بڑی باقاعدگی سے اور تو جہ سے اپنے مطالعہ میں مصروف رہتا تھا لیکن تعطیلوں کے ایام کا اکثر حصہ میں لندن سے باہر گزارتا تھا۔کبھی انگلستان میں کبھی انگلستان سے باہر میں 7 ستمبر اللہ کو لندن پہنچا تھا شروع اکتوبر میں باقاعدہ پڑھائی شروع ہوگئی۔دسمبر کا آخری عشرہ کرسمس کی تعطیل تھی میستر فائرن اور گھر میں دوستہ لوگوں سے مشورہ کر کے میں نے تعطیل کے دنوں میں ٹارہ کی جانے کا فیصلہ کیا جو جنوبی ڈیون شائم میں ساحل سمندر بچہ ایک خوشنما منتقام ہے مسٹر ہر من فاسٹن میرے ساتھ چلنے کو تیار ہوگئے ٹار کی کی ہوا پہ ہے۔بہت صاف اور معتدل تھی، سماں بہت خوشگوار تھا، اگر چہ موسم سرما کا وسط تھا لیکن ہر طرف سبزہ تھا ٹار کی کا پہلا نظارہ ہی مجھے بہت دلکش معلوم ہوا۔اس تاثر کی وجہ سے یہ شہر مجھے آتنک بہت بھلا معلوم دیتا ہے مجھے کئی مرتبہ وہاں جانے کا اتفاق ہوا ہے اور ہر بار میں وہاں سے خوش لوٹا ہوں۔ٹار کی میں اور اس کے ارد گرد بہت سے سیر کے مقامات ہیں۔پلٹن کے ساتھ ملتے ہوئے حصے میں ہی کا کنگن کورٹ، اس کا باغ اور تالاب وغیرہ ہیں۔باغ کے ایک کونے میں چھوٹا سانا من وقتوں کا گر جا ہے۔گاؤں کے پورا ہے میں پرانے وقتوں کی لوٹار کی بھٹی ہے۔جو اتنیک امریکن زائرین کی دلچسپی کا مرکز ہے۔اب تو پاس ہی ایک کیے اور مطعم اور کار پارک بھی مہیا کر دیئے گئے میں بلا لاء میں سب ماحول ایک گاؤں کا تھا۔سیر کیلئے شہر کے مشرقی حصے میں لب ساحل دو بہت خوشنما مقام تھے۔ایک میرین ڈرا ہو اور دوسرا نبشپ واک، اول اندر کے اس پاس تو اب خوشنما مکانات اور بنگلے بن گئے ہیں اور یہ حصہ ہائشی لحاظ سے ایک چھوٹے پیمانے پر فرانس کے جنوبی ساحل کا مقابلہ کرتا ہے۔موخر الذکر ابھی تک اپنے نام کے مطابق خاموش طبع افراد کیلئے چلنے پھرنے اور مناظر قدرت پر غور وفکر کرنے کے مواقع مہیا کرتا ہے۔اتفاق سے ہمارے تمام عرصہ قیام میں موسم بہت خوشگوار رہا۔بارش بالکل نہیں ہوئی نہ سردی کا کوئی احساس ہوا اور ہم جی بھر کر مچل پھر سکے۔فا الحمد للہ ٹار کی سے لندن واپسی کا سفر دن کے وقت ہوا اور ہم انگلستان کے دیہاتی مناظر کا خوب لطف اٹھا سکے۔دو عالمی جنگوں کی وجہ سے انگلستان کی معاشرت اور بودو باش میں زمین و آسمان کا فرق پڑ گیا ہے۔اور جو تبدیلیاں ہوئی ہیں ان کے بعض خوشگوار پہلو بھی ہیں۔لیکن دیہاتی مناظر آج بھی ویسے ہی دلکش ہیں اور میرا دل ان سے لطف اند ورنہ ہونے سے کبھی نہیں بھرتا۔لندن چونکہ انگلستان کا تجانہ کی اور مالی مرکز تھا بعد میں برطانیہ کا۔پھر تمام بر طانوی مملکت کا اور انیسویں صدی میں ساری دنیا کا مرکز بنا۔اور سال تک اس حیثیت کا مالک رہنا ، اسلئے اپنی اس حیثیت کی حفاظت کی خاطر قرون وسطی اسے شاہی اقتدار اور اختیارات کو محدود اور پابند کرنا یا *