تحدیث نعمت — Page 661
ے حرام کرکے انگستان میں قیام کرنے کا حکم دیا تھا۔بڑی وجہ شکایت تھی کہ انہوں نےاپنی پہلی شادی کے کچھ عرصہ بعد ان بیوی کی حقیقی بہن کے ساتھ بھی شادی کر لی تھی اور بیک وقت دونوں بیویوں کے ساتھ ان کے انرودا جی تعلقات تھے۔یہ صورت انکی قومی روایات کے خلاف نہیں تھی۔دونوں ہو ہاں اپنی اپنی محکمہ خوش تھیں ان کی خوشد آن سن کے ساتھ مجھے کچھ عرصے بعد کوالالمپور میں ملنے کا اتفاق ہوا اور جو خود ایک تعلیمی نستر، قابل، روشن ضمیر خاتون تھیں اس رسے کہ ممکن دوسرے سرے پر ملی تھی لیکن یہ موت حکوت رانیہ کیلئے ناگوار تی خصوصا اس لئے کہ سر فریڈرک اپنے آپ کو عیسائی کہتے تھے اور کلیسا کوان کی پیدا کردہ صورت حالات قابل قبول نہ بھی۔ادھر سر فریڈرک کو کلیسا اور یہ طانوی حکومت کا موقف رغیر معقول اور غیر واجب نظر آتا تھا۔انہوں نے عیب ثیت کو ایک فیشن کے طور پر بول کر لیا تھا لیکن باد حد معیت ر کمی کی ڈگری کے ان تمام اقرار صدیوں پرانی قبلی اقدار ہیں اورانکے خیال میں ان کا پہلی بیوی کی موجودگی می اس کی بہن کے ساتھ شادی کرنا بالکل ان اقدار کے مطابق تھا۔جب انہیں ان کے اختیارات سے محروم کر کے انگلستان بھیج دیا گیا توان کے قبیلے میں اس پر بہ بے چینی پیدا ہوئی اور حکوم کو بہت مشکلات کاسامنا ہوا۔جب یہ بے چینی بجائے فر تونے کے بڑھتی چلی گی تو اور برطانوی حکومت نے سر فریڈرک کو وطن واپس آنے کی اجازت دیدی اوران کے اختیارات بھی بحال کر دیئے گے۔افریقی حالات اور افریقی معیارکے لحاظ سے سر فریڈرک ایک بیدار مغز کمان تھے ان ملک کیلئے انہوں نے پارلیمنٹ تام ک تھی۔کمال کی پہاڑیوں میں ایک پہاڑی پرانہوں نے ایوان پارلیمنٹ اور حکمت کے دفاتر تعمیر کرئے تھے یہ عادات عالیشان تھیں اور ہر نوع کے آرام اور آرائش کے سامانوں سے آراستہ تھیں۔مجھے ایوان پارلیمینٹ دیکھنے اور ان کے بعض وزراء سے ملنے کا اتفاق بھی ہوا۔ان کے وزیر تعلیم انہی کے عزیزوں میں سے ایک نہایت اعلی تعلیم یافتہ روشن دماغ نو جوان تھے جنہیں اپنے ک و قوم کی ترقی کی رکن تھی تعلیم کے رسیل سے انہیں تو چی تھی میری کو اور عیسائی تھے مگران کے یہ عزیز علی وجہ البصیرت سلمان تھے اور اسلامی امورمیں گری دلچسپی رکھتے تھے جب میں معہ کچھ انتقاد کے سر فریڈرک کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ بہت تواضع سے پیش آئے۔کوئی نصف گھنٹہ کی ملاقات کے بعد میں نے اجازت طلب کی تو فرمایا میری بڑی خواہش ہے کہ آپ سب دوپہر کا کھانا نہیں میرے ساتھ کھائیں میرے پروگرام یا نیا گانا تو سنی تھی لیکن شاہی فرمان سے انکار " زبان کے لیے اور تلفظ پر کمرے کی پچاپ تھی بہت دھیمی اور نہم آواز میں بولتے تھے۔یہ سب کچھ تو بیسویں صدی کے انگلستان ور کمی کا اثر تھا لیکن جب ان کاکوئی عزیز یا عازم کرے میں داخل ہوتا تو دروازے سے ہی ہاتھ پاؤں پر رنگ کر ان تک پہنچ کرانی گذارش کرتا۔یہ صدیوں پرانی قومی رات تھی اور ہماری موجودگی میں اس پرعمل کئے جانے سے کمانے کے تعلیمیافتہ نوجوان کے چہرے پر خجالت کے کوئی آثار تھے۔ہماری گفتگوان کی ذاتی دلچسپیوں ک محدودی با وجود ان کی قومی روایتوں کے دوران کی L