تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 611 of 736

تحدیث نعمت — Page 611

411 کسی رائے کے اظہار کی مجاز ہ تھی اور عدالت کوکسی رائے کے اظہار سے پرہیز کرنا چاہیے تھا۔اس کا جواب یونیسکو کی طرف سے یہ دیا گیا کیم نے جو تحریری بیان دال میں نے نقطہ نظر کی تائی میں داخل ا ا ا ا ا لا انا مال کو بھی دی تھی اور انہیں آگاہ کردیا ا گیا اور کوئی یا عدالت میں داخل کرنا چاہیں تو ہمیں بھیج دی۔ہم عدات میں داخل کردیں گے چنانچہ ہیں جو بیان کوئی بیان ا ا تو بھی ہیں ہم عالم گے چنا انہوں نے بھی وہ عدالت میں داخل کردیا ہے اور عملاً فریقین میں مساوات قائم رہ ہی ہے۔ہم اپنی طرف سے زبانی بحث نہیں کرنا چاہتے اس نے زبانی بحث کے لحاظ سے بھی سادات ام دی کہ ہم بحث کریں ن افسران کی طرف سے بحث ہو۔عدالت کی کشت نے اس موقف کی صحت کو تیم کی اور قرار دیاکہ اس عالم میں کسی زبانی بحث کی ساعت کی ضرورت نہیں۔پانچ جوں نے کثرت رائے سے اختلاف کیا جنہیں میں بھی شامل تھا۔میں نے اپنی اختلافی رائے میں لکھا کہ عدالت نے اس معاملے میں تو ضابطہ اختیار کیا ہے اس سے ثابت ہے کہ عدالت کے روبیدو فریقین کو مساوات حاصل نہیں کیونکہ یہ سادات نہیں کہ ایک فریق براہ راست توعدالت میں کوئی دستا و نیز با یان پیش نہ کرسکے اوراس فریق مخالف اس کی طرف سے جو بیان ہو پیش کرناچاہے عدالت میں پیش کردے۔دوسرے عدالت نے زبانی بحث سنے سے اس سے پر ہی نہیں کی کہ زبانی بحث کے دورا میں مادر میری پری در روشنی ڈالی جانیکی توقع با امکان نہ تھا یہ پر ہی محض اس وجہ سے اختیار کیاکیا کہاکہ یونیکو کیطرف سے زبانی بحث کی سماعت کی جاتی تو عدالت اس معاملے پر پائے دینےکی جان نہ ہی اسے میری رائے میں فریقین کو عدالت کے مدیر سادات حاصل نہیں اور عدالت کو مشاور تی رائے کے اظہار سے انکار کر دینا چاہیئے۔ئے علالت کے اراکین کی کثرت سے سے برقرار پایا کہ فریقین کوعدالت کے ریور سادات حاصل ہے اورائے عدالت کو مشاورتی رائے دینی چاہئے تو اس امر پر تبادلہ خیالات کیاگیا کہ کیا 110 کے ٹریول کا فیصلہ صحیح ہے۔اس مرحلہ پر رہوں بھی زیرکی ایک یادہ پانی جن کی رائے تھی کہ مال کو اظہار رائے سے انکار کر دینا چاہئے اب اصل استصواب پر رائے دینے کے مجاز ہیں۔ہر طرف سے یہ کہا گیاکہ کوہماری رائے میںدالت کا نظارے سے انکار کردینا اے تھالیکن چونکہ کرن کا ہے ی ہے کہ عدالت رائے دینے کی مجاز ہے لہذا ہم کثرت کی راے کے پانی ہیںاور اب ایک بہت پرانے باقی رفقاء کی طرح اظہا را کا حق رکھتے ہیں۔چنانچہ کر رائے سے ہمارے اس موقف کی صحت کویلی کی گی اور ہم اپنوں نے ھی اپنائے کا اظہار کیا نتیجہ یہ وا کہ باری آرا کو مل کر کے مال کی کثرت کی یہ رائے ہوئی کہ ا ء کی ٹرینوں کو افسران کی اپیل کی سماعت اور اس پر فیصلہ صادر کرنے کا اختیار تھا۔عدالت سے صرف اسی مسئلے پر رائے طلب کی گئی تھی اور عدالت کے سامنے یہ سوال زیر کت نہیں تھا کہ 10 کی ٹر یونٹ کا فیصلہ واقعات پر صحیح ہے یا نہیں۔عدالتکی تو یہ کانتیجہ یہ جا کر کی ٹرمینل کا فیصد تام یا اور ایران متعلق کی اورکی ہوئی لال کی یہ رائے اکتوبر کو صادر ہوئی۔حکومت فرانس اور حکومت نا روکے تنازعہ انیسوی صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں ناروے کے بعض نیم سرکاری اداروں نے بین الاقوامی مالی حلقوں کے ذریعہ فرانس کے بعض سرمایہ داروں سے قرضہ جات