تحدیث نعمت — Page 592
۵۹۲ آزادی سے بات چیت کر سکو گے۔میری حاضری اعلیٰ حضرت کی خدمت میں ساڑھے بارہ بجے تھی اور یہ ملاقات دور گھنٹے سے زائد رہی اعلی احضت بالکل بے تکلفانہ گفتگو فرماتے رہے۔ان دونوں ڈاکٹر مصدق پر فوجی عدالت میں مقدمہ میل رہا تھا۔اس سلسے میں اعلی حضرت نے فرمایا میں نے آج ہی صدر عدالت کے نام مراسلہ بھیجا ہے کہ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں ڈاکٹر مصدق کے خلاف کوئی الزام عائد نہیں کرتا۔عدالت کے روبرو جو واقعات میری ذات کے متعلق بیان کئے گئے ہیں عدالت اپنے فیصلے پر پنچنے میں نہیں بالکل نظرانداز کر دے۔جن امور پر بھی گفتگوری نہایت دلچسپ رہی۔جنرل زاہدی وزیر اعظم ایران سے ملاقات ان دنوں ایران کے وزیر اعظم منزل زاہدی تھے انہوں نے بھی مجھے اپنی ملاقات سے نوازا اور بہت تواضع سے پیش آئے قصر گلستان میں تخت طاؤس، ہیرے جواہرات خلعتیں، لباس فاخرہ ، مرصع اور غیر مرصع قالین اور فنون لطیفہ کے بے شمار دل لبھانے والے شاہکار دیکھ کہ طبیعت خوش ہوئی ! در بند ہوٹل کے بر آمارے سے برف کا نظارہ نہایت نوشتنا تھا۔اتفاق سے سورج نکل آیا برن اور زیادہ خوبصور معلوم ہونے لگی۔آنلئے عبدالحمید رانی جو پاکستانی سفارت خانے میں یمنی سیکریٹری تھے بنات تواضع سے پیش آئے اور اپنے حلقہ ہائے عمل در سوخ میں مجھے متعارف کرایا مجرا اللہ۔میاں نیم حین صاحب مرحوم الغفر الله له وجعل الجنة العليا مثواه ) ان ایام میں طہران میں پاکستانی سفارت خانے کے سربراہ تھے انکی محبت ٹھڑی یہ لطف رہی۔اصفہان اور شیرانہ کا سفر | اصفہان اور شیرانہ دیکھنے کا اشتیاق تھا سردی کی شدت تھی۔برفباری ہورہی تھی حکومت کیطرف سے مشورہ دیاگیا کہ ہوائی جہاز سے سر آسان سے اور آرام سے ہوکے اور ہوائی جہاز میں کرنے کی پر خلوص پیش کش کی گئی۔لیکن میں نے موٹر کا سفر اسے پسندکیاکہ اسے میں بھی کچھ دیکھنےکاموقع میسر آئیگا حکومت کی طرف سے سب انظام محارم اور طور پر کردیا گیا۔میاں نسیم سین صاحب مریم اور آقائے عبدالحمید عرفانی میرے ہمارا ھے وزارت خارجہ کی طرف سے آتے صحرائی ہمسفر تھے۔حکام کی کار کے علاوہ پاکستانی سفارت خانے کی کا بھی ساتھ تھی یہ سفر بہت لطف میں کیا قسم تک سڑک بالکل صاف تھی۔اس سے آگے سڑک پختہ تو تھی لیکن شمالی حصے میں برف کی وجہ سے اور جہاں برف نہیں تھی سنگریزوں کی وجہ سے مور لانے والوں کو احتیاط کرنا پڑتی تھی مگر میں کسی ای پریشانی کاسامنانہ ہوا۔الحمداللہ شرک کے چلاے خانوں اور ہوہ خانوں میں ایرانی درمیانی معاشرت کی کچھ چھلک بھی نظر آتی تھی۔** اصفہان | اصفہان انی طرز کا میا شہر ہے۔محلات کی تو کوئی ایسی خصوصیت نظر نہ آئی۔پہلا ستون بشیک قابل دید ہے لیکن بعض مساجد عجائب رونہ گار ہیں۔بیگمات کی مسجد کی کہیں نظر نہیں ملے گی شہر کا وسطی میدان