تحدیث نعمت — Page 591
۵۹۱ لفاظ کی رو سے تو انہیں اختیار ہے لیکن اگر بات پر رائے درکار ہے کہ روا یا الفاظ کی کیا تعین کی جاتی رہی ہے تواس یلئے انہیں مطالعہ کرنا ہوگا جس کے لئےکم از کم چومیں گھنے در کار ہوں گے۔بدری صاحبکو بھی کابینہ مں شامل ہونے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔اشتیاق حسین صاحب قریشی کو دوبارہ کابینہ میں شامل کیا گیا۔خان عبد القیوم نان صاحب کا نفرنس میں شمولیت کے بعد واپس پشاور تشریف لے جارہے تھے۔لاہور پہنے پر نہیں سٹیشن پر جنرل اعظم خاں نے نام دیاکرہ نوی میلیون پر گریز جنرل صاحب کے ساتھ بات کریں۔انہیں بھی وزارت میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی جسے انہوں نے منظورکر لیا اوروہ لاہور سے ہی کراچی واپس تشریف لے آئے قرض پر رکھنے کے دنیا کی امید کی برطرفی در دورت ل میں کی گئی خواجہ ناظم الدین صاحب کی امین کی ایک اعلان ہوگیا۔آٹھ بجے شام چودھری عملی سا تھا نوگرا صاحب کی کابینہ نے حلف لیا اورنٹی کا بینہ کا اعلان ہوگیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا ایک مندر خواب سارے کے آخرمیں یں ابھی نیویارک میں تھاکہ مجھے منورہ کی طرف سے صدقہ کی تحریک حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا تار ملاجس میں ارشاد تھا اور کہ فوراً کچھ صدقہ دیدی اور واپسی کے سفر پر روانہ ہونے لگ تو اس وقت بھی صدقہ دے دینا۔میں نے اسی وقت تعمیل کردی مجھے اندازہ ہوا کہ حضور نے کوئی مندر خواب دیکھا ہے۔چند دن بعد حضور کا والا نامہ ملا۔جس میں حضور نے اپنے ایک خواب کا ذکر فرمایا۔حضور نے دیکھاکہ خاک کا عراقیہ تصور کی خدمت میں موصول ہواہے جس میں لکھا ہے کہ جس ہوائی جہاز میں ناکار سفر کردیا تھا اسے آگ لگ گئی اور میانہ ایک جزیرے پر گرا۔حضور نے تحریر فرمایا تو میں مجھے حیرانی بھی ہوئی کہ یہ علاوہ ھی ہو اور خود ہی یہ تفصیل بھی نکھرا ہے جس کے یہ معنی ہیں ا ا ا ا ا ا ا ا ن نے ان سے بالا ہے ہی یہ تحریر فرمایاکہ دو تفاصیل زمین میں رہ گئی ہیں ایک یہ کہ جس وقت حادثہ ہوا اس وقت پروانہ کا رخ مشرق سے مغرب کی طرف منھا اور دوسرے یہ کہ پامیلاٹ کے نام میں محمد شامل تھا غالبا غلام محمد یا کوئی ایسانام تھا اور وہ بھی بچ گیا۔تمہارا واپسی کا سفر تو مغرب سے مشرق کی طر ہوگا لیکن خواب بغیر طلب ہوتے ہیں اللہ تعالی محفوظ رکھے۔میں نے سفر پر روانگی سے پہلے بھی صدقے کا انتظام کر دیا۔شہنشاہ ایران کی خدمت میں باریابی واپسی کے رومی سلے میں ہوش ٹھرا، دشت سے حکومت اورا کی دعوت کی تعمیل میں تہران گیا، تہران میں اعلیٰ حضرت شہنت اگر ان کی خدمت میں باریابی کا شرف حاصل ہوا اس زمانے میں آقائے حسین اعلی ہجو واشنگٹن میں سفیر ایران رہ چکے تھے اور ایک روشن دماغ سیاستدان اور اتے اور جو ریست کرم فرماتے تھے زیر بار گاہ تھے۔ماضی کے وقت مجھ سے فرمایا اعلی حضرت تمہیں نیویارک میں مل چکے ہیں اور تمہاری نسبت بہت اچھی رائے رکھتے ہیں۔ان کی خواہش تمہارے ساتھ ملحد کی میں بات چیت کرنے ی ہے۔میں تمہیں پیش کرنے کے بعد واپس آجاؤں گا۔کھانے پر بھی تمہارے علاوہ اور کوئی موجود نہیں ہوگا۔تم۔"