تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 588 of 736

تحدیث نعمت — Page 588

۵۸۸ میاد ہے کہ کا مینا نئے سرے سے تشکیل ہونی چاہیے۔اس یہ وزیر اعظم صاحب نے کچھ با فرورفتہ ہو کر دریافت فرمایا بیکس کی رائے ہے ؟ کیا سرکاری افسران کی بہ خان قربان علی خان صاحب نے بھی کچھ اسی لہجے میں جواب دیا بیک سرکاری ایران کی لیکن ان کے علاوہ گورنہ صاحبان کی وزراء کی اور پر ایک کی با سب یہاں موجود ہیں آپ دریافت فرمائیں۔کانفرنس ہا اے وی یک والی کوکوی علی نتیجہ برآمدنہ ہوا۔کانفرنس کے اجلاس بدھ کے روز ختم ہونے کے بعد معہ کی صبح کو جب حسب معمول وزیرا عظم صاحب گورنر جنرل صاحب کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے تو گور نہ جنرل صاحب نے ان سے فرمایا میں چاہتا ہوں آپ کا بینہ کا ایک اجلاس میری رہائش گاہ پر کل صبح دس بجے کریں مں اس اجلاس میں ایک ہم امر پیش کرنا چاہتا ہوں۔اس پر وزیرا عظم صاحب نےفرمایا میں آج شام مسلم لیگ کے انتخابات کے سلے میں حیدرآباد جار ہا ہوں کل شام واپس آجاؤں گا یا تو یہ اجلاس پر سوں صبح ہو سکتا ہے اور یا پھر آج چار بچے بعد دو پر ہو جائے۔گورنہ برل صاحب نے فرمایا آج ہم بکے مناسب ہو گا۔اسی صبح کابینہ کا اجلاس بھی تھا۔وزیرا عظم صاحب نے اجلاس کے شروع ی فرمایا صاحبان گورنر تنزل صاحب آب سر پر چار کے کابینہ کا اجلاس اپنی رہائش گاہ پر چاہتے ہیں۔کسی اہم ارکا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔آپ سب صاحبان کم بجے وہاں تشریف لے آئیں۔سردار عبدالرب نشتر صاحب شاہ عراق کی تاجپوشی کے جشن میں بحیثیت قائد وند پاکستان شمولیت کے لئے بغداد تشریف لے جانے والے تھے۔انہوں نے روری کے کروائے تھے کے یہ ہیں وہ کچھ حارت مسوس کر رہے تھے۔انہوں نے وزیر اعظم صاحب سے رخصت چانچی ا این دادگاه ها را آرام کریں وزیرا علما نے انہیں نیت دین کے ساتھ کہا ہے گورن جنرل صاس کے ہاں حاضری نہ بھولئے۔سردارصاحب نے فرمایا اگر تکلیف بڑھ گی تو ضرور حاضرہوں گا۔انہی دنوں مٹر ایل یونین جو اس زمانے میں فورڈ ڈنڈایشن کے صدر تھے دلی سے ہوتے ہوئے کراچی تشریف لائے تھے اور گورنر جنرل صاحب سے مے تھے۔وزیر اعظم صاحب کا خیال تھاکہ مسٹر یونین کوئی ایسا پیغام لیکر گئے ہیں جس کا ذرکر گورنر جنرل صاحب وزراء صاحبان سے کرنا چاہتے ہیں ناظم الدین کا مبینہ کی برطرفی کا بینہ کا اجلاس ختم ہونے پر میں کان پر واپس آگیا اور ہم بے گورنر برای صاحب ی فرودگاه پر حاضر ہو گیا۔وزیراعظم صاحب سردار عبدالرب نشتر صاحب اور باقی سب وزراء بھی موجود تھے۔گورند برای صاحب تشریف لائے۔عام طور پر سوئے رسمی تقریبات کے وہ لباس کے متعلق خاص احتیاط نہیں فرمایا کرتے تھے لیکن اسدان ایسا معلوم ہوتا تھاکہ لباس کے متعلق بھی پوری احتیاط کے ساتھ تیاری کر کے تشریف لائے ہیں۔میٹھے ہی رضایا صاحبان میں نے آپ کو اس وقت یہاں آنے کی اسٹے لکلیف دی ہے کہ مجھے آپ سے ایک نہایت اہم بات کہنی ہے۔آپ کو یا ہوگاکہ پچھلے سال گرمیوں میں میں نے آپ صاحبان کی خدمت میں گذارش کی تھی کہ لک میں حکمت پر اعتماد کم ہورہا ہے اور یں نے مشورہ دیا تھا کہ وزیراعظم صاح کا بند میں کمی اور مضبوط پیدا کرنے کے لئے مناسب اقدام کریں اور اس غرض کے ے کان میں تبدیلی پر ویکی لیکن مری بات پر توجہ نہ کی گئی اور لا بد سے بدتر ہوتے گئے گورنروں کی کا مرضی کے