تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 584 of 736

تحدیث نعمت — Page 584

۵۸۴ ہولت ہو جاتی ہے تومیں آپ کی خدمت میں اپنا اتنے پیش کر دیتا ہوں۔لیکن نواحیہ صاب نے اسے پسندنہ رمایا بلکہ کہا کہ ہمارے استعفے دینے سے شکل حل نہیں ہو گی بلکہ اور بڑھے گی۔جو صورت حالات پیدا کردی گئی تھی وہ ر خود مجھ پر گراں تھی لیکن اقامة في اقام الله و یا اللہ تعالی کھڑ کر وامان قائم رہنا کا مقدس این در اور فرض کی ادائیگی کا احساس ترک خدمت کے رستے میں روک تھے۔جب حکومت کو ڈاک کے ذریعے کثرت سے مطالبات بھجوانے سے مقصد حاصل نہ ہوا تو محاذ کیطرف سے فیصلہ کیا گیا کہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے راست اقدام کیا جائے ار جمعہ کی نماز کے بعد ماجد سے مطالبات کی تائید میں جلوس نکالے جائیں۔اس تحریک کا سے زیادہ خوش کراچی اور لاہور میں تھا۔راست اقدام کی صورت میں اس امر کا بہت امان تھا کہ مظاہرین اور پولیس کا لتصادم ہو جائے یا اس عام مین علی واقعہ ہو۔اس صورت حالات پر قابو پانے کی تقریر کے متعلق کا بینہ میں اختلاف تھا۔کثرت رائے اس طرف مائل تھی کہ عیش آمدہ حالات بدون خطرات کے پیش نظر ہو صاف دکھائی دے رہے تھے محاذ کے لیڈران کو حراست میں لے لیا جائے لیکن خود وزیر اعظم صاحب اور ان کے بعض رفقاء اس اقدام کے اس بناء پر مخالف تھے کہ لیڈران محاذ میں بعض علماء بھی شامل تھے جن کا وزیر اعظم صاحب بہت احترام کرتے تھے۔اس طرح یہ مسئلا یک پیچیدہ صورت اختیار کر گیاتھا۔کا منہ میں اس اختلاف کے رونماہونے کی وجہ سے وزیراعظم اب نے مجھے وہ برقی ارش و ارسال فرمایا تھا جس کا ذکر پہلے آچکا ہے ان کی مراد ھی کہ راست اقدام کی تاریخ سے پہلے میں کراچی نہ آؤں، کراچی پہنچنے پہ تھے معلوم ہوا کہ راست اقدام کی روک تھام کے متعلق تو کابینہ کی کثرت رائے کے مطابق فیصلہ ہوگیا ور کراچی میں کوئی پریشان کن صورت پیدا نہ ہوئی لیکن لاہور کے حالات رو بہ اصلاح ہونے کی بجائے بگڑتے جار ہے ہیں۔کراچ پہنچنے کے دوسرے دن گورنہ منرل ملک غلام محمد صاحب نے مجھے طلب فرمایا۔وہ سلامتہ الملک سلطان عبدالعزیز بن سعود کی دعوت پر سعودی عرب تشریف لیجانے والے تھے اس سفر کی تیاری میں مصروف تھے۔فرمایا مجھے کل سفر پہ دانہ ہوتاہے تفصیلی بات بیت کا موقعہ نہیں تم سے اتنا ہنا چاہتا ہوں کہ میں کڑی سے کڑی مصیبت برداشت کر لوں گا لیکن اصول کو ہا تھ سے نہ نگاہ مجھے ابھی پورے حالات سے آگاہی نہیں ہوئی تھی۔ان کے الفاظ سے اندازہ ہوا کہ حالات بہت سنجیدہ صورت اختیار کر چکے ہیں۔بعد میں عید عبد اطلاعات آنے لگیں کہ لاہور میں صورت حالات بہت نازک ہوگئی ہے۔ان دنوں صوبہ پنجاب کے گورنر ابراہیم اسمعیل چندریگر صاحب تھے اور وزیر اعظم میاں ممتان محمد خان صاحب بے کنانہ تھے۔کابینہ کے اجلاس میں لاہور کے حالت پر غور ہو رہا تھا۔اسی انار می گوری صاحب پنجاب نے ٹیلیفون پر وزیر اعظم صاحب کو بلایا کہ لا ہورمیں حالت خطرناک ہو گئی ہے۔اور ان کا اور حیف منسٹر کا مشورہ ہے کہ محاذ کے مطالبات قبول کرنے کا فوری اعلان ہونا چاہئے کیونکہ ان کی رائے میں حلت پر قابو پانے اور کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔لاہورکے کئی اداروں پر عوام کا قبضہ ہوگیا ہے۔انہیں یقین ہے کہ ان کی یہ کنگ بھی کی جارہی ہے اور کن ہے اب وہ وزیراعظم کے