تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 583 of 736

تحدیث نعمت — Page 583

ری پہلی ملاقات تھی میں ان کے بعد خان کا گرانش لئے ان سے رخصت ہوا۔بعد کی ملاقاتوں میں یہ نقش او رھی گہرا ہوتا گیا۔بغداد واپسی کے دوران میں بابل کے کھنڈرات دیکھ کر عبرت حاصل کی۔س امر کے فسادات اور مارشل لاء | سرمایہ کار کی شام کوکراچی واپس پنچاتو وزیراعظم صاحب کے برقی ارشاد کا عقدہ عمل ہوا اس کے جماعت احمدیہ کراچی کے سالانہ ملے میں مجھے تقریر کرنے کے لئے کیاگیا تھا۔یں نے اپنی تقریر کا عنوان اسلام زندہ غریب ہے انتخاب کیا۔جب جلسے کا دن قریب آیا تو بعض عناصرکی طرف سے بھلے کے خلاف اور خصوصاً میرے تقریر کرنے کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔جلسے کے دن تک یہ مخالفت بظاہر ایک منظم صورت اختیار کرگئی۔میں نے تقریر کی دوران تقریر میں کچھ فاصلے سے شور و شعف کے ذریعے جلسے کی کاروائی میں حل ڈالنے کی کوشش جاری رہی۔کچھ آوازے بھی کسے گئے۔تقریر کے بعد میںاپنے مکان پر واپس آگیا۔جہاں تک علم ہے کو کسی قدر بدمزگی توسیلائی گئی لیکن الحمدالد کوئی نادرنہیں ہوا۔وقتا فوقتا جماعت احمدیہ کے جلسوں یا دیگر سرگرمیوں کے خلاف مختلف مقامات پر پوش کا مظاہرہ ہوتا کوئی چنے کی بات نہیں تھی۔جہاں کہیں ایسی صورت پیدا ہوتی رہی جماعت کا عمل بفضل الله امن پسندی کا رہا۔جماعت ی طرف سے کبھی خلاف وقار یا موجب اتعمال کاروائی یا حرکت اور ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی ی وتار را که دو بار درود می مخالفت کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا۔اس موقعہ پر خلاف معمول ایک تو تعدد عناصرے مل کر مخالفت کا ایک محاذ قائم کرلیا۔اور دوست مخالفت کا جوش ٹھنڈا پڑنے کی بجاے زور پکڑتا گیا اوربعض دوسرے مقامات پر بھی تائیدی مظاہرے شروع ہو گئے۔رفتہ رفتہ اس محاذ کی طرف سے ایک فہرست مطلبا کی تیار کی گئی اورکرتے عوام کے ستخطوں کے ساتھ بذریعہ ڈاک حکومت کو پہنچائی جانے لگی۔مطالبات کی تعداد تو کوئی نصف در بین تھی لیکن معلوم ہوتا تھا کہ ان میں سے دو کو اہم شمار کیا جاتا ہے۔اول یہ کہ جماعت احمدیہ کو غیرمسلم اقلیت قرار دیا جائے۔دو سے ظفراللہ خان کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کیا جائے کیونکہ وہ احمدی ہے۔حقیقت میں دوسرا مطالبہ پہلے مالے ہی کا جزو تھا۔یہ سلسلہ جاری تھا کہ میں اقام متحدہ کی اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک چلاگیا۔میری غیرحاضر میں جو کچھ ہوا اس کی تفصیل کا تو ای بہت نہ مجھے ا ا ا ا علم نہیں کیونکہ اس نوع کی بہت کوئی بر ما را این یکی را پس معلوم ہوا کہ ترکی بہت زور به میری طرف سے خواجہ ناظم الدین صاحب وزیر اعظم امریکہ جانے سے بے بی اور امریکہ سے واپسی کے بعد چی کی خدمت میں وزارت سے استعفے کی پیش کش میں نے خواجہ ناظم الدین صاحب کی خدمت میں گذاری اور ان کا اسے قبول کرنے سے انکار کی کہ اگر میرے وزارت خار وجہ سے علیحدہ ہو جانے سے